ہندوستانی فوج کو ملک سے نکل جانے صدر مالدیپ کا الٹی میٹم

   

مالے: ہندوستان اور مالدیپ کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے اور مالدیپ کے صدر محمد معزو نے ہندوستان کو اپنی فوجیں مالدیپ سے نکالنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ میڈیا کے مطابق مالدیپ نے کہا ہیکہ ہندوستان مالدیپ کے علاقے سے ہندوستانی فوجیوں کو 15 مارچ تک واپس بْلالے۔ مالدیپ کے صدر محمد معزو کے سیکرٹری کا کہنا ہیکہ صدر محمد معزو کی پالیسی کے تحت ہندوستانی فوجی مالدیپ میں نہیں رہ سکتے۔ہندوستانی وزارت خارجہ نے خبر پر ابھی کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔مالدیپ نے ہندوستانی کو باضابطہ طور پر ملک سے اپنی فوج نکالنے کیلئے کہہ دیا ہے۔خیال رہیکہ مالدیپ میں نئے صدر محمد معزو کی حکومت بننے کے بعد سے ہندوستان اور مالدیپ کے تعلقات کشیدہ ہیں۔3 ماہ قبل مالدیپ کے صدر منتخب ہونے والے محمد معزو نے الیکشن میں ’انڈیا اؤٹ‘ کا نعرہ لگایا تھا اور مالدیپ سے ہندوستانی فوج کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔صدر منتخب ہونے کے بعد محمد معزو نے اپنے پہلے دورے کے لیے روایت سے ہٹ کر ہندوستان کے بجائے ترکی اور چین کا انتخاب کیا تھا اور ہندوستان سے باضابطہ طور پر اپنے ملک سے ہندوستانی فوجیوں کو واپس بلانے کی درخواست کی تھی۔محمد معزو کا کہنا تھا کہ اْن کی حکومت ملک کے تزویراتی اہمیت والے علاقہ سے ہندوستانی فوج کو واپس بھیجنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالدیپ میں 100 کے قریب ہندوستانی فوجیوں کا دستہ 1988 سے تعینات ہے جو جہاز اڑانے، تربیت اور سرویلنس سمیت دیگر غیر جنگی امور کے لیے موجود ہیں۔اس وقت کی حکومت کی درخواست پر ہندوستانی فوجیوں کو بغاوت کے خطرات اور سری لنکا کے ٹامل ٹائیگرز سے حفاظت کے پیش نظر تعینات کیا گیا تھا۔ ہندوستان۔مالدیپ تنازعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ “سیاست سیاست ہے” اور اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ہر ملک ہر بار ہندوستان کی حمایت کرے گا یا اس سے اتفاق کرے گا۔ جے شنکر نے ہفتہ کو مہاراشٹر اکے ناگپور میں منتھن ٹاؤن ہال میں ایک اجلاس کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔