گراؤنڈ پینیٹریٹنگ راڈار سسٹم کا استعمال، ڈائرکٹر جنرل بی ایس ایف دلجیت سنگھ چودھری کا بیان
نئی دہلی: بی ایس ایف نے پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے اور سرحدی علاقوں میں کسی بھی قسم کی دراندازی کو روکنے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بی ایس ایف کے ڈائرکٹر جنرل دلجیت سنگھ چودھری نے کہا کہ سیکوریٹی فورس سرنگوں کی نشاندہی اور جموں اور پنجاب میں ہندوستان۔ پاکستان سرحد کے ساتھ دراندازی روکنے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار سسٹم کا استعمال کر رہی ہے۔دلجیت سنگھ چودھری نے کہا کہ سرحد سے آنے والے ڈرون کو مار گرانے جموں اور پنجاب میں ہند۔ پاک سرحد پر حساس مقامات پر اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، بی ایس ایف کی دو بٹالین پہلے ہی سرحدی حفاظت کیلئے جموں بھیجی گئی ہیں۔ ہم نے حساس علاقوں کی نشاندہی کی جنہیں درانداز استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسی جگہوں پر پی ٹی زیڈ کیمرے ہیں۔ کیمرے، سینسر کے علاوہ، سمارٹ باڑ لگانے کے، ہمارے اہلکار تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس کسی بھی مداخلت سے نمٹنے کیلئے بہترین ہتھیار ہیں۔بی ایس ایف 2289.66 کلومیٹر ہندوستان۔پاکستان سرحد اور 4096.70 کلومیٹر بھارت-بنگلہ دیش سرحد کی حفاظت کرتا ہے۔ دلجیت سنگھ چودھری نے کہا، بی ایس ایف کے پاس مختلف جگہوں پر ڈرون مخالف نظام موجود ہے اور وہ کامیاب ثابت ہو رہے ہیں۔ ہم نے ڈرون گرانے جگہوں کی نشاندہی کی ہے۔ ہمارے پاس ڈرون کو مار گرانے اور زمین پر لانے کی ٹیکنالوجی ہے۔ ہم نے ڈرون کو مار گرایا ۔ اس سال زیادہ ڈرون ہیں اور وہ کم منشیات بھیجنے میں کامیاب رہے ہیں ہمیں سرحد کو محفوظ رکھنے حکمت عملی بدلنی چاہیے۔ہندوستان ۔بنگلہ دیش سرحد پر 5 اگست 2024 سے الرٹ ہے۔ اس پر بی ایس ایف ڈائرکٹر جنرل نے کہا، سرحدوں پر سیکورٹی بڑھا دی گئی اور بارڈر گارڈز بنگلہ دیش کے ساتھ میٹنگیں کی جاتی ہیں۔ دراندازی کو روکنے کم از کم 15 اینٹی ہیومن اسمگلنگ یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔