ہوٹلوں میں سحری کرنے والوں کی تعداد میں کمی

   

فوڈ ڈیلیوری ایپ کے ذریعہ آرڈرس بھی کم، مہنگائی اور معاشی ابتری کا اثر

حیدرآباد۔10 اپریل(سیاست نیوز) دونوں شہروں میں رات دیرگئے ہوٹلوں میں سحر کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور سحر و افطار کے اوقات میں فوڈڈیلیوری ایپ کے ذریعہ آرڈرس کی تعدا دمیں بھی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے جو کہ ریستوراں مالکین کے لئے تشویش کا باعث گبنتا جا رہاہے اور ساتھ ہی ZOMATO اور SWIGGY کی جانب سے رات دیر گئے خدمات کی فراہمی کیلئے کئے جانے والے اقدامات بھی بے فیض ثابت ہونے لگے ہیں۔ کورونا وائرس وباء سے قبل سال 2019 میں رمضان المبارک کے دوران شہر حیدرآباد میں سحرو افطار کے اوقات میں فوڈ ڈیلیوری ایپ کے ذریعہ آرڈر کرتے ہوئے اشیائے خورد و نوش منگوانے والوں کی تعداد میں 550 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور کورونا وائرس کے دوران بھی ZOMATO اور SWIGGYکے ذریعہ آرڈرس کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہاتھا لیکن اس مرتبہ معاشی حالات ابتر ہونے اور مہنگائی میں ہونے والے بے تحاشہ اضافہ کے سبب آن لائن آرڈرس میں بھی کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ آن لائن فوڈ آرڈرکرنے والے طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کا کہناہے کہ آن لائن فوڈ آرڈر کرنے کی صورت میں جو اضافی رقومات وصول کی جا رہی ہیں وہ تکلیف دہ ثابت ہورہی ہیں اور اس کے علاوہ موجودہ معاشی حالات انہیں اس بات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں کہ وہ فوڈ ڈیلیوری ایپ کے ذریعہ ریستوراں سے کھانا منگوا کرکھائیں۔ نوجوان نسل جو بغرض تفریح ریستوراں میں سحری کیا کرتی تھی وہ بھی اب کم ہی نظر آرہے ہیں اور دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے جس کے سبب وہ اپنے اخراجات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے ریستوراں مالکین کا کہناہے کہ عام طور پر ماہ رمضان المبارک کے پہلے دہے کے دوران کوئی گہما گہمی نہیں ہوتی لیکن دوسرے دہے سے گہما گہمی میں اضافہ ہونے لگتا ہے اسی لئے تاجرین اور ریستوراں مالکین توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ ہفتہ سے حالات میں بہتری پیدا ہوگی۔ ZOMATO اور SWIGGY کے ڈیلیوری بوائز کا کہناہے کہ سال 2019 اور لاک ڈاؤن کے دوران ماہ رمضان المبارک کے خصوصی افطار اورسحر کے آرڈرس کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی تھی کہ اب حالات معمول پر آچکے ہیں تو آرڈرس میں بھی کچھ اضافہ ہوگا لیکن آرڈرس میں اضافہ تو ریکارڈ نہیں کیا گیا بلکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ م