صنعاء ۔ 14 اگست (ایجنسیز) یمن کیلئے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی مندوب ہانس گرنڈبرگ نے کہا ہیکہ یمن کو بڑے پیمانے پر تنازعہ کی حد میں واپس جانے کے حقیقی خطرہ کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازعہ پورے خطہ میں پھیل سکتا ہے۔ یمن کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران گرنڈبرگ نے کشیدگی میں کمی اور حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام یمنی فریقوں کو کشیدگی روکنی ہوگی۔انہوں نے سلامتی کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ یمنی فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کیلئے دباؤ ڈالے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو اپنانا ہوگا اور جنگ کی تجدید ترقی اور خدمات کو معطل کر دے گی۔ گرنڈبرگ نے وضاحت کی کہ سیاسی راستے یا بحران کے پرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں میں ابھی تک کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔بحیرہ احمر کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے متعدد بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ کارروائیاں بحری جہاز رانی کو خطرہ میں ڈال رہی ہیں۔انہوں نے حوثی ملیشیا سے اپنے حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سلامتی کونسل میں امریکہ کی خاتون نمائندہ تامی بروس نے تصدیق کی ہیکہ حوثی حملے خطہ کے استحکام کو دھمکا رہے ہیں۔
انہوں نے حوثی ملیشیا سے اپنی جارحیت بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حوثیوں کے دھمکیوں کے مقابلے میں یمنی حکومت کیلئے اپنے ملک کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔