یو پی حکومت کو سپریم کورٹ سے جھٹکہ‘ عتیق احمد کیس میں رپورٹ کی طلبی

,

   

2017سے اب تک کے انکاونٹرس کی تفصیلات مانگی گئیں‘ 4ہفتوں میں جواب دینے کی ہدایت

نئی دہلی :سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت سے ریاست میں 2017 سے اب تک ہوئے 183 انکاونٹر کی تحقیقات پر اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت عظمی نے پوچھا ہے کہ ان میں سے کتنے معاملے مشتبہ پائے گئے۔ ان میں کن لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے اور اس وقت مقدمات کی کیا صورتحال ہے؟ عدالت نے یو پی حکومت سے چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کے لیے کہا ہے۔جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس اروند کمار کی بنچ نے مافیا عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کے قتل کی تحقیقات پر سوال اٹھانے والی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت دی۔ بنچ نے کہا کہ ان معاملات میں پولیس کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عتیق کو قتل کرنے والوں کو کیسے پتہ چلا کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے؟حالانکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی ایک معاملے پر سماعت کرنے کے بجائے مستقبل کے لیے رہنما خطوط بنانے پر غور کرے گا۔ اترپردیش حکومت کی جانب سے پیش سینئر وکیل مْکل روہتگی اور ایڈوکیٹ جنرل اجئے کمار مشرا نے بنچ کو بتایا کہ 183 میں سے 144 انکاونٹر میں کلوزر رپورٹ داخل ہوچکی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ، ہم یہاں جانچ کے لیے نہیں ہیں، لیکن جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی سسٹم ہے یا نہیں۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ اگر جیل میں یا پولیس حراست میں رہتے ہوئے کسی کا قتل ہو تو ایسی صورتحال میں یہ لوگوں کے یقین کو کمزور کرتا ہے۔ عدالت نے یوپی حکومت سے پوچھا ہے کہ انکاؤنٹر کی نگرانی کا کیا نظام ہے؟ کیا انکاؤنٹر میں این ایچ آر سی اور سپریم کورٹ کے رہنما خطوط پر عمل کیا گیا؟ سپریم کورٹ نے عتیق کی بہن عائشہ نوری کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے یوپی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔دوران سماعت جسٹس نے کہا کہ تشویشناک بات ہے کہ جیل میں واقعات کیوں ہو رہے ہیں، عدالتی حراست میں بھی واقعات ہو رہے ہیں۔