یورپی یونین لبنان میں یو این امن اہلکاروں کی تعیناتی کا حمایتی : کایاکالاس

   

برسلز ۔ 9 اکٹوبر (ایجنسیز) یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہیکہ یورپی بلاک لبنان میں کسی بھی سکیورٹی خلا سے بچنے کیلئے اس امر کا حامی ہیکہ اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی کی جائے۔ لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوج داخل ہو گئی تھی، جہاں اس نے حزب اللہ کے خلاف ایک لمبی جنگ لڑی ہے۔اب بھی اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں موجود ہیں کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کا لبنانی علاقوں سے انخلا ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں یورپی یونین کی خارجہ امور سربراہ نے کہا ہے یورپی بلاک لبنان میں فوجی خلا پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی میں توسیع ہونی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ لبنانی فوج کیلئے یورپی یونین جلد ایک تربیتی مشن کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ تربیتی مشن لبنانی فوج اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات کی سطح کو بلند کرنے کا باعث بنے گا۔ کایا کالاس ان دنوں لبنان کے دورے پر ہیں۔لبنانی فوج جو کافی عرصے سے معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ان مشکلات کے علاوہ بھی کئی پریشانیوں اور چیلنجوں سے دوچار ہے۔ اس کیلئے یورپی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد اپنے علاقے میں موثر موجودگی رکھنا بھی مشکل ہوگا۔ اگرچہ حزب اللہ کو بھی اسرائیل کے ساتھ کیے گئے حالیہ معاہدے کے تحت غیر مسلح کیا جانا ہے لیکن اس کے باوجود لبنانی فوج حزب اللہ کی طاقت اور حمایت کے چیلنج کو سمجھتی ہے۔کایا کالاس نے کہا ہمارے رکن ممالک کا موقف ہیکہ لبنان میں کوئی فوجی خلا پیدا نہیں ہونا چاہیے اس لیے ہر کوئی یونیفل کے مینڈیٹ کے سلسلے میں تشویش رکھتا ہیکہ اس کا مینڈیٹ ختم نہ کر دیا جائے۔یورپی لیڈر نے لبنان میں اعلی لبنانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران بھی انہوں نے یونیفل کی تعیناتی کو اہم قرار دیا ہے۔ یاد رہے یونیفل کے تقریباً 7500 اہلکار لبنان میں امن دستوں کی صورت تعینات ہیں۔
ان کا تعلق تقریباً 50 ملکوں سے ہے۔ یہ دستے 1978 سے لبنان اسرائیل سرحد پرلبنان میں تعینات ہیں۔ اب ان کی تعیناتی کی مدت 31 دسمبر کو اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ماہ مارچ میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے امریکی و اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے کے بعد حزب اللہ نے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سرحدی کارروائیاں شروع کیں جو ایک بڑی اسرائیلی جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔ اسرائیلی بمباری سے کم از کم 4300 لبنانی ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے لبنان میں 10 کلومیٹر اندر تک پیش قدمی کی اور قبضہ کر لیا۔10 کلومیٹر کے اس لبنانی علا1قے کو اسرائیلی فوج نے مقبوضہ علاقہ قرار دینے کی بجائے سکیورٹی زون کا نام دیا اور اب تک وہاں اسرائیلی فوج موجود ہے۔ البتہ ماہ جون میں دونوں ملکوں نے امریکی نگرانی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ جس کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے گا اور اسرائیلی فوج لبنانی علاقوں سے انخلا کرے گی۔