یوکرین جنگ امریکہ کیلئے درد سر: ٹرمپ

   

واشنگٹن:حال ہی میں دوسری میعاد کے لیے امریکی صدر منتخب ہونے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین میں بہت زیادہ تباہی ہوچکی ہے۔ ہلاکتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ اس بحران نے یورپ کو بھی پریشان کیا ہے اور امریکہ کے لیے دردِ سر بنا ہے۔ اب یوکرین جنگ بند ہونی ہی چاہیے۔ امریکی ریاست فلوریڈا میں امریکہ فرسٹ انسٹیٹیوٹ کے تحت رنگارنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کی صورتِ حال انتہائی پریشان کن ہے۔ اب روس اور یوکرین کو مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے چاہئیں۔ جنگ کو مزید جاری رکھنا معاملات کو مزید بگاڑے گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اب کسی نئی جنگ کی گنجائش نہیں اور امریکہ کو کسی بھی جنگ میں ملوث ہونے اور الجھنے سے روکا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے عہدِ صدارت میں بھی سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ لگایا تھا اور اب بھی اْن کی مجموعی سوچ یہ ہے کہ امریکہ کو جنگوں اور خانہ جنگیوں میں الجھنے کے بجائے امن کی راہ ہموار کرنے پر متوجہ رہنا چاہیے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کی تباہ کاریوں کے حوالے سے تو خوب اظہارِ خیال کیا ہے اور ہلاکتوں پر اظہارِ افسوس کیا ہے تاہم غزہ کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے اْن کی زبان پر تالا لگا ہوا ہے۔ جنگ کے نام پر غزہ کے شہریوں کو دن رات شہید کرنے والی اسرائیلی سفاک فوج کو لگام دینے کے بارے میں ڈونالڈ ٹرمپ کچھ بھی کہنے سے مکمل گریز کرتے رہے ہیں۔