یکم ؍مئی سے ایل پی جی سلنڈر قوانین میں تبدیلی؟

   

نئی دہلی 29 اپریل:(ایجنسیز)یکم مئی کے قریب آتے ہی ملک میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں اور بکنگ قوانین میں تبدیلی کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ارد گرد حالات نے توانائی کے بازار پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کا اثر ہندوستان میں گیس کی قیمتوں پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق بھارت پٹرولیم ،انڈین آئیل اور ہندوستان پٹرولیم گھریلو، تجارتی اور صنعتی استعمال کیلئے ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے برانڈز جیسے انڈین، بھارت گیس اور ایچ پی گیس کے تحت سلنڈر فروخت کیے جاتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق مارچ سے اپریل 2026 کے درمیان 19 کلو گرام کے کمرشل سلنڈروں کی قیمتوں میں مسلسل تین مرتبہ اضافہ ہوا۔ یکم مارچ کو 28 سے 31 روپے کا اضافہ کیا گیا، جبکہ 7 مارچ کو کشیدگی بڑھنے کے بعد 114.5 روپے کی بڑی چھلانگ دیکھی گئی۔ اپریل میں بھی بڑے شہروں میں قیمتوں میں 196 سے 218 روپے تک اضافہ ہوا۔اس کے مقابلے میں 14.2 کلو گرام گھریلو سلنڈر کی قیمت میں نسبتاً کم اضافہ ہوا ہے اور اب تک صرف ایک بار 60 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی میں ایک بار پھر قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے، خاص طور پر کمرشل سلنڈر۔فی الحال اپریل 2026 میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں نئی دہلی میں 913 روپے، کولکاتا میں 939 روپے، ممبئی میں 912.5 روپے اور چنئی میں 928.5 روپے پر برقرار ہیں۔کمرشل 19 کلو گرام سلنڈر کی قیمتیں اس وقت نئی دہلی میں 2078.50 روپے، کولکاتا میں 2208 روپے، ممبئی میں 2031 روپے اور چنئی میں 2246.50 روپے تک پہنچ چکی ہیں۔
، جو حالیہ اضافوں کے بعد کی سطح ہے۔بکنگ قوانین میں بھی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ 25 دن کے وقفے کو مزید تبدیل کیا جا سکتا ہے، جبکہ او ٹی پی پر مبنی ڈیلیوری نظام کو مستقل بنانے کی تیاری ہے تاکہ شفافیت اور صارفین کی تصدیق کو یقینی بنایا جا سکے۔وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق سپلائی اور طلب کے درمیان توازن برقرار رکھنے کیلئے پہلے ہی کئی اقدامات کیے جا چکے ہیں، جن میں ریفائنری کی پیداوار میں اضافہ اور شہری علاقوں میں بکنگ وقفہ 25 دن جبکہ دیہی علاقوں میں 45 دن تک بڑھانا شامل ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی بحران کے باوجود ملک میں ایل پی جی، پی این جی اور سی این جی کی سپلائی پوری طرح مستحکم ہے۔ اپریل کے دوران لاکھوں سلنڈروں کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ طلب کو پورا کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت کو توانائی کیلئے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور متبادل ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔