Saturday , July 22 2017
Home / اداریہ / پاکستانی فوج کی بربریت

پاکستانی فوج کی بربریت

نہ تو پائے وحشت کے چھالے گئے
نہ چن چن کے کانٹے نکالے گئے
پاکستانی فوج کی بربریت
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے والے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ اس پاکستان کی فوج پر الزام ہیکہ اس نے لائن آف کنٹرول پر کرشنا گھاٹی سیکٹر میں گشت کرنے والی ہندوستانی فوجی پارٹی پر حملہ کرکے دو فوجیوں کو ہلاک کیا اور ان کے سر مسخ کردیئے۔ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی شکایت نئی نہیں ہے ماضی میں بھی ہندوستانی سپاہیوں کی نعشوں کو مسخ کرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ سرحدی چوکسی کے باوجود جب پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم (BAT) اپنی سرپرست ٹیم کی نگرانی میں ہندوستانی علاقہ میں داخل ہوکر سپاہیوں کو نشانہ بناتی ہے تو اس کا سخت نوٹ لیا جانا چاہئے۔ اگرچیکہ پاکستان کے فوجی بیان میں نعشوں کو مسخ کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا گیا ہے کیونکہ پاک فوج کا کہنا ہیکہ پاکستانی آرمی ایک پیشہ ور فوج ہے اور کسی بھی فوج کی بے حرمتی نہیں کرسکتی چاہے وہ ہندوستانی سپاہی کیوں نہ ہو۔ پاکستانی حکومت اور اس کی فوج کے بیانات میں اکثر تضاد پایا جاتا ہے تاہم اس مرتبہ ہندوستانی فوج کے ساتھ ہونے والی کارروائی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب جموں و کشمیر میں سیکوریٹی کی صورتحال اور سیول سوسائٹی کی کیفیت نازک بنی ہوئی ہے۔ سلامتی اور امن کو بحال کرنے کی کوششوں کا خیال آنے سے پہلے ہی سرحد پر کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ پاکستان فوج کی قابل نفرت حرکت کا مناسب جواب دینے ہندوستانی فوج کا ادعا ایک شدید واقعہ کا جذباتی ردعمل ہوسکتا ہے مگر سرحد پر ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے اور دراندازی کی کوششوں کے علاوہ دیگر واقعات کا نوٹ لیتے ہوئے ہندوستان کی جانب سے سیکورٹی چوکسی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی پھر بھی سرحد پر پاکستانی بارڈر ایکشن ٹیم کو ہندوستانی علاقہ میں 250 میٹرس تک داخل ہوکر کارروائی کرنے کا موقع ملتا ہے تو یہ سیکوریٹی چوکسی میں کہیں نہ کہیں خامی کی علامت کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا کہ پاکستانی بارڈر ایکشن فورس نے سرحدی باڑ کو نقصان پہنچائے بغیر ہندوستانی علاقہ میں داخل ہوئی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہوسکا۔ یہ غور کرنا بارڈر سیکوریٹی عملہ کے ذمہ داروں کا کام ہے۔ جہاں تک ہندوستانی فوجی ٹیم پر حملہ کرکے دو جوانوں کی نعشوں کو مسخ کرنے کا سوال ہے یہ سراسر ایک غیرانسانی بربریت انگیز کارروائی ہے۔ پاکستانی فوج کو ایسی قابل نفرت حرکت کرنے والے سپاہیوں کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان یہ دعویٰ کرے کہ اس کی فوج پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوج ہے وہ کسی بھی سپاہی کے ساتھ غیرانسانی حرکت نہیں کرتی تو پھر اے ایل او سی پر کرشنا گھاٹی پر پیش آئے واقعہ کا فوری نوٹ لے کر کارروائی کرتے ہوئے خاطی بارڈر ایکشن ٹیم کے ارکان کا کورٹ مارشل کرنا چاہئے تاکہ ہندوستان کو یہ پتہ چل سکے کہ پاکستانی فوج بھی قابل نفرت حرکت کو پسند نہیں کرتی۔ کرشنا گھاٹی میں ہلاک ہونے والے دو سپاہیوں میں 22 کو انفنٹری کے جوان نائب صوبیدار پرمجیت سنگھ اور بی ایس ایف کی 200 ویں بٹالین کے ہیڈکانسٹیبل پریم ساگر شامل ہیں۔ پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم کو پاکستان کی سرحدی کارروائیاں کرنے والی فوجی ٹیم اکثر استعمال کرتی ہے۔ اس ٹیم کی تربیت اسی خطوط پر ہوتی ہے کہ وہ ایل او سی پر اپنا غلبہ برقرار رکھے اور گھات لگا کر حملے کرتے ہوئے سرحدی انتشار پھیلائے رکھے۔ اس کے جواب میں ہندوستانی فوج کی ناقص تیاری کی وجہ سے آئے دن سرحدی علاقوں میں ہندوستانی جوانوں کی جانیں ضائع ہورہی ہیں۔ حکومت ہند اندرون ملک یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ جموں و کشمیر میں صورتحال علحدگی پسندوں کی وجہ سے دگرگوں ہے اس طرح وہ سرحدی انتظامی صلاحیتوں پر توجہ دینے سے گریز کررہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ماضی کے تجربات کے بعد سرحدی چوکسی اور انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ سرحد عبور کرکے ہندوستانی سپاہیوں کو ہلاک کرنے اور ان کی نعشوں کو مسخ کرنے کے واقعات کی شکایات سامنے آچکی ہیں۔ فبروری 2000 میں الیاس کشمیری زیرقیادت ہندوستانی فوجی اشوک لفٹنگ پوسٹ نوشیرہ سیکٹر پر حملہ میں 7 ہندوستانی سپاہی ہلاک ہوئے تھے اور الیاس کشمیری پر الزام تھا کہ اس نے 17 مراٹھا لایٹ انفنٹری جوان 24 سال باہو صاحب ماروتی کے سر کو پاکستان واپس لے گیا تھا۔ 1999ء کی کارگل جنگ میں پاکستانی فوج نے کیپٹن سروبھ کالیہ کو حراست میں لے کر بعدازاں اس کی نعش مسخ شدہ حالت میں ہندوستان کے حوالے کی تھی۔ جون 2008ء میں اس کے بعد جنوری 2013، 28 اکٹوبر 2016ء میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ سرحدی چوکسی کے لئے جو اصول اور سیکوریٹی قواعد اختیار کئے جانے چاہئے اس پر دھیان دینا اور اس کی تیاری کرنا ہندوستانی فوج کی ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT