مودت اہل بیت
ابوزہیر حافظ سید زبیرھاشمی نظامیحضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئے تو انصار نے دیکھا
ابوزہیر حافظ سید زبیرھاشمی نظامیحضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئے تو انصار نے دیکھا
مرسلہ : عبداللہ محمد عبداللہاللہ والوں کی ایک مجلس میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر چل رہا تھا، دوران گفتگو اپنے مریدین سے فرمایاکہ امام عالی مقام نے
راستہ اُن کا جن پر تو نے انعام فرمایا ۔ نہ اُن کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا ۔(سورۃ الفاتحہ ۔۶۔۷) ان الفاظ سے راہ حق کی ایسی
عَنْ أنَسٍ قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلاَثٍ : فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ ﷲِ! لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلًّی فَنَزَلَتْ ( وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلَّی) وَ
حضرت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی مکہ مکرمہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنو عدی کی نسبت سے عدوی کہلاتے تھے۔ آپ کی ولادت حرب فجار اعظم
ابوزہیر حافظ سید زبیرھاشمی نظامی اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ کا بے انتہاء فضل و کرم ہے کہ اُس نے ہم کو اُمت مصطفیٰ ﷺبناکر اس دنیائے فانی میں مبعوث فرمایا۔
سید مختار عالم قادریحضرت سید شاہ غوث معین الدین قادری ؒ جگر گوشہ حضرت حافظ جلال الدین قادری جمال البحر المعروف حضرت معشوق ربانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔ آپ
امداد اللہ خان نعمانی :حرم کے لغوی معنی حرمت والا ٗ حرام کیا گیا ٗ ممنوع وغیرہ ہیں ۔ اسلامی قمری مہینوں میں یہ پہلا مہینہ ہے ۔ ایامِ جاہلیت
عابد صدیقی قادریحضرت حافظ میر شجاع الدین حسین قادری قدس سرہ کی ولادت ۱۱۹۱ھ میں برہانپور (مدھیہ پردیش) میں ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب ۲۸ واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت
مولانا سید شاہ محمد جعفر محی الدین حسینیزبدۃ العارفین خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا عبید المصطفیٰؒ کا نام محمد بشیر احمد اور عبید المصطفیٰ لقب تھا۔ آپ کی
حافظ صابر پاشاہخلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی اسلام کے لئے روشن خدمات، جرات و بہادری، عدل و
چلا ہم کو سیدھے راستہ پر۔ (سورۃ الفاتحہ ۔۵) لغت میں ہدایت کا معنی ہے لطف وعنایت سے کسی کو منزل مقصود تک پہنچا دینا۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کے
عَنْ زَيْدِ بْنِ أرْقَمَ رضی اللہ عنه قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی اللہ عليه وآله وسلم مِنْ حَجَّةِ الْوِدَاعِ وَ نَزَلَ غَدِيْرَ خُمٍّ، أمَرَ بِدَوْحَاتٍ، فَقُمْنَ، فَقَالَ :
ایک یہودی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا ’’اے امیر المؤمنین! آپ کے پاس ایک آیت ہے، اگر وہ آیت ہمارے لئے اُترتی تو ہم
حضرت میثم تمار اسدی کوفی رضی اللہ عنہ،مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے انتہائی قریبی ساتھی اور وفا دار تھے ۔ بعض مؤرخین نے آپ
جناب محمد رضی الدین معظمؒنمازوں کی پابندی کریں، ٹی وی حرام ہے ہمیشہ دُور رہیں، کسی کا دل نہ دُکھائیں، اپنے مقصد و حاجت کے لئے اللہ رب العزت پر
پروفیسر سید عطاء اللہ حسینی قادری الملتانی ؒ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دستِ قدرت سے جو قلب ملا تھا وہ ’’قلب سلیم‘‘ تھا۔ قلب سلیم وہ ہوتا ہے جو
اے ایمان والو! اللہ اور رسول ﷺ نے ہمیں زندگی گزارنے کیلئے صرف دو چیزوں کی پابندی کا سختی سےحکم دیا ہے ۔ ۱۔ ایمان کی مضبوطی (توحید )، ۲۔نیک
پیرزادہ سید شاہ تنویر عالم قادری الموسویولی کی تعریف میں بزرگوں نے تحریر فرمایا ہے کہ ولی ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنی بشری قوت و طاقت کی حیثیت
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں)