آئی اے ایس آئی پی ایس عہدیداروں کو الہ اآباد ہائیکورٹ کا انتباہ

   

روش کمار
آکریتیچودھری کے کیس میں الہٰ آباد ہائیکورٹ نے جس طرح سے ضلع انتظامیہ خاص کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی میدھا روپم پر برہمی ظاہر کی اس سے یوگی حکومت کو کافی پشیمانی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ایسا لگتا ہے کہ عدالت کے ریمارکس کا اثر زیادہ کام نہیں کرگیا کیونکہ یوپی حکومت نے عدالت عالیہ کے حکم یا فیصلہ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بہرحال آکریتی چودھری کیس میں الہٰ آباد ہائیکورٹ نے 15 صفحات پر مشتمل اپنا فیصلہ دیا ہے جس میں جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس سچدیوا نے یوپی کی نوکر شاہی خاص کر نوئیڈا کے ذمہ دار عہدیدار کے بارے میں جو کہا ہے اُسے سب کو پڑھنا چاہئے اور ڈرنا چاہئے ۔ اس کیس میں ضلع کی اعلیٰ عہدیدار میدھا روپم ہیں جو چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا گیانیشور کمار کی بیٹی ہیں ۔ انھوں نے جو کیاہے اُن کی کرتوت کے بارے میں عدالت نے جو کہا ہے اس سے ہم آپ کو واقف کروارہے ہیں ۔
کورٹ نے یوپی کی نوکر شاہی کو لیکر ایسی ایسی باتیں کہدی جو ہندوستان کی نوکر شاہی پر بھی اُترتی ہیں اور ایک وارننگ کی طرح ہے ۔ یوپی کیلئے تو ہے ہی ، عدالت نے کہاکہ آئی اے ایس آئی پی ایس عہدیداروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کی وفاداری ملک کے دستور سے ہے نہ کہ سیاسی جماعتوں یا تنظیموں سے ۔ اکثر عہدیدار دستور کا عہد بھول جاتے ہیں اس کے برعکس یا متضاد کام کرتے ہیں ۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو یوپی کے عوام اُنھیں انگریز سامراج کی ہوبہو شکل میں دیکھنے لگ جائے گی اور اُن سے شدید نفرت کرے گی ۔ سماج میں بغاوت کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ عدالت اگر نوکرشاہی کی زیادتیوں کو درست کرنے لگ جائے تو اُسے سخت سے سخت احکامات جاری کرنے پڑجائیں گے ۔ ایسا چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب بے لگام نوکر شاہی یوپی کی حکومت کو Orwellian اسٹیٹ میں بدل دے گی ۔
یوپی کی نوکر شاہی پر عدالت کے یہ ریمارکس انتہائی سنگین ہے اس کی نوبت اس لئے آئی کہ دہلی یونیورسٹی کی تاریخ کی طالبہ 25 سالہ آکریتی چودھری پربوگس بنیاد پر NSA لگایا گیا ۔ آکریتی مزدوروں کے حقوق کیلئے لڑتی ہیں لیکن اسے اپریل کے ماہ میں مزدوروں کے تشدد کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے خلاف این ایس اے کی دفعات عائد کردی گئی اور 5 ماہ سے آکریتی جیل میں ہے ۔ آکریتی کے ساتھ ساتھ صحافی اور کالم نگار ستیم ورما ، مزدوروں کے حقوق کے لئے لڑنے والے سافٹ ویئر انجینئر آدتیہ آنند ، روپیش رائے کے فیکٹری ورکر منیشا چوہان ، ہمانشو ٹھاکر ، یوگی مینا کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔
اگر آکریتی کے معاملہ میں بوگس طریقہ سے NSA لگائے گئے ہیں تو ستیم ورما پر جو NSA لگا ہے وہ کیوں نہ بوگس طریقہ سے لگایا گیا ہوگا ۔ کیسے مان لیں کہ آکریتی پر بوگس طریقہ سے NSA عائد کرنے والا ضلع انتظامیہ ستیم ورما کے معاملہ میں حقیقی طریقہ سے قدم اُٹھا رہا ہے ۔ جہدکاروں کا کہنا ہے ہم نے دیکھا ہے کہ جتنے بھی جہدکار ہیں جن کو نوئیڈا احتجاج میں گرفتار کیا گیا ہے اُن کے خلاف کوئی شواہد یا ثبوت نہیں ہیں اور اسی کی وجہ سے ایک الگ تھلگ واقعہ کیلئے ان لوگوں کے خلاف 11 ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کیا جاتاہے جتنے بھی جس سے ان کو ضمانت ملنے میں مشکل ہو ۔ پولیس نے ڈیجیٹل ثبوت پیش کیا ہم نے وہ جج صاحب کو دکھایا اور بتایا کہ اس میں ایک بھی ایسا ثبوت نہیں ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ آکریتی چودھری یا اُن کے جتنے ساتھی ہیں اُنھوں نے دنگا بھڑکایا ہو ۔ اُلٹے ہم نے وہ ویڈیو عدالت کے سامنے پیش کئے جس میں وہ امن کی بات کررہے ہیں ، مانگ کررہے ہیں اور جمہوری طورپر مزدوروں کے حقوق کی بات کررہے ہیں ۔
ان سارے ثبوتوں کو دیکھنے کے بعد جج صاحب نے یہ مانا کہ ان کو جس طرح NSA کے تحت گرفتار کیا گیا وہ بالکل بے بنیاد اور من مانی تھا اس لئے نہ صرف NSA کو کالعدم قرار دیا گیا بلکہ 5 لاکھ کا جرمانہ بھی معاوضہ کے طورپر عائد کیا گیا ہے ۔ یہ معاوضہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جنھوںنے NSA کے تحت گرفتاری کو منظور کیا اُن سے لیکر SHO نے اس پر عمل کیا اُن کی تنخواہوں سے 5 لاکھ روپئے منہا کئے جائیں گے اور میں مانتا ہوں کہ وہ 5 لاکھ کچھ بھی نہیں ہیں جن تکلیف دہ حالات کا ان لوگوں نے سامنا کیا ہے ۔ صرف NSA ہی بوگس طریقہ سے نہیں لگا بلکہ آکریتی چودھری کی گرفتاری بھی غیرقانونی تھی ۔ آکریتی کو 11 اپریل کے دن گرفتار کیا گیا مگر ریکارڈ میں گرفتاری 12 اپریل کی دکھائی گئی ۔ 13 اپریل کو نوئیڈا میں تشدد ہوتا ہے ۔ 12 تاریخ کی گرفتار دکھانے کیلئے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں۔ 25 سال کی ایک طالبہ کی زندگی برباد کرنے کیلئے جیل میں مہینوں ڈالے رہنے کیلئے ضلعی انتظامیہ اور عہدیدار یہ سب کیوں کررہی تھیں ؟ کس کے اشارے پر کررہی تھیں؟
آکریتی چودھری معاملہ میں الہٰ آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ نے ایک اور بار یوپی حکومت کو بے نقاب کردیا ہے ۔ ایک اور بار سے ہمارا مطلب ہے اس طرح ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف بھی غیرقانونی طریقے سے NSA لگایا گیا تھا اور وہ کئی ماہ جیل میں رہے ۔ الہٰ آباد ہائیکورٹ نے ان پر لگائے این ایس اے کو غیرقانونی مانا ۔ یوپی حکومت سپریم کورٹ گئی اور وہاں ہارگئی ۔ ڈسمبر 2020 ء میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے ۔ 6 سال بعد بھی کچھ نہیں بدلا ۔ ڈاکٹر کفیل خان کی جگہ آکریتی چودھری کا نام جڑ گیا ہے ۔
جنوری 2018 ء سے ڈسمبر 2020 ء کے درمیان الہٰ آباد ہائیکورٹ نے NSA کے 94 مقدمات کو خارج کردیا ۔ 2021 ء میں کونین شریف ایم نے انڈین اکسپریس کیلئے یہ رپورٹ کی تھی ۔ 120 معاملوں میں NSA لگائے گئے 94 معاملوں میں رد کردیئے گئے ۔ ان میں سے 70 فیصد معاملوں میں الہٰ آباد ہائیکورٹ نے یوپی حکومت کو پھٹکارا اور کہا کہ ملزمین کو فوری رہا کریں۔ ڈاکٹر کفیل خان کے کیس میں الہٰ آباد ہائیکورٹ کے تب کے چیف جسٹس گوئند ماتھر نے کہا تھا کہ ان پر غیرقانونی طورپر NSAعائد کیاگیا ۔
اکسپریس کی صحافی کونین نے عدالت کے کئی احکامات کا تجزیہ یا جائزہ پیش کیا تھا ۔ بتایا کہ 11 احکامات میں عدالت نے یہاں تک کہا کہ ضلع ادھیکاری نے اپنے دماغ کا استعمال تک نہیں کیا ۔ این ایس اے میں توسیع دیتے رہتے ہیں تاکہ ضمانت نہ ملے ۔ این ایس اے کو لیکر الہٰ آباد ہائیکورٹ کے پہلے کے فیصلوں میں بھی یہی کہا گیا کہ NSA لگاتے وقت ضلعی عہدیدار اپنے دماغ کا استعمال نہیں کرتے ۔ 2026ء میں بھی الہٰ آباد ہائیکورٹ کو اسی طرح کی بات کہنا پڑی ۔ 2014 ء کے بعد سے فرضی بنیادوں پر ملک بھر میں یو پی اے لگادینا این ایس اے لگادینا اس طرح کے کئی معاملے عدالتوں نے پکڑے ہیں اور لوگوں کو راحت دی ہے مگر حکومت کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔
آخر کوئی عہدیدار کتنا گرسکتا ہے ۔ کیا اسے اپنے ہی شہریوں کو فرضی کیس میں پھنسانے کا اتنا سکھ ملتا ہے کہ بار بار اسی کو دہراتا ہے ۔ جب آئی اے ایس اور آئی پی ایس آپس میں بیٹھتے ہوں گے تو اُن کے بچے اُن سے کیا پوچھتے ہوں گے کہ کیا آپ نے کسی کو ایسے ہی اُٹھاکر جیل میں ڈالدیا ؟ آپ کو شرم نہیں آتی ؟ جس عوام سے اتنی عزت پاتے ہیں یہ عہدیدار اُن کا گلا بھی گھونٹ دیتے ہیں ۔ الہٰ آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس ایل سچدیوا نے اپنے فیصلہ میں گوتم بودھ نگر یعنی نوئیڈا کے مجسٹریٹ کا نام نہیں لیالیکن ضلعی عہدیدار میدھا روپم ہیں جو گیانیشور کمار کی دختر ہیں ۔ عدالت نے کہاکہ اس معاملہ میں گوتم بدھ نگر کی مجسٹریٹ کے اقدام کی مذمت کی جانی چاہئے ۔ انھوں نے ہی آکریتی چودھری پر این ایس اے لگانے کو منظوری دی تھی ۔