Monday , October 21 2019

آبادی کے متعلق گری راج کے متنازعہ الفاظ کے پر اعظم خان کا طنز

مرکز کی نریندر مودی حکومت کے وزیر اور بہار کے بیگوسرائے سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ گری راج سنگھ کے متنازعہ بیان پر سیاست گرم ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں ہند و مسلم دونوں کے لئے دو بچوں کا قانون ہونا چاہئے اور جواس قانون کو نہیں مانا اس کا حق رائے دہی ختم کردینا چاہئے۔

ان کے بیان پر ردعمل پیش کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی سے رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے طنز کیا اور کہاکہ دوبچو ں سے زیادہ ہونے پر تو پھانسی دے دینا چاہئے۔

آبادی پر قابو کو لے کر گری راج کے بیان پر بہار میں سیاست گرماگئی ہے۔جاگرن ڈاٹ کام کے مطابق مرکز میں بی جے پی کی ساتھی جنتا دل یونائیٹڈ نے گری راج کے بیان کی حمایت کی ہے تو اپوزیشن کے خیمے نے اس کی مخالفت کی ہے۔

بی جے پی رکن اسمبلی سوچیندر کمار کے علاوہ جے ڈی یو رکن اسمبلی للن پاسوان اور جیوتی کمار نے کہا ہے کہ آبادی پر قابوکے لئے قانون ملک کے مفاد میں ہے۔ آبادی پر قابوہونا چاہئے۔ادھر راشٹریہ جنتا دل کے رکن اسمبلی بھولا یادو نے گری راج سنگھ کے بیان کو ان کی خراب ذہنیت کی اختراع بتایا۔

انہوں نے کہاکہ ایسا شخص مرکزمیں وزیر نہیں ہونا چاہئے۔کانگریس کے پرمود مشرا نے کہاکہ گری راج سنگھ بے تکے بیان دیتے رہتے ہیں۔ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی بات ہے۔ ہم کسی کے بچوں کو کیسے روک سکتے ہیں؟۔

گری راج کے اس بیان پر سب سے بڑاجواب اترپردیش سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم نے دی ہے۔ انہوں نے طنز کستے ہوئے کہاکہ د و سے زیادہ بچے ہونے پر ووٹنگ کا حق کیا ختم کرنا‘ پھانسی دیدینا چاہئے۔

اس کے بعد اگلا بچہ ہوگا ہی نہیں۔عالمی یوم آبادی کے موقع پر گری راج سنگھ نے کہا آبادی ہندوستان کے لئے بڑا چیالنج ہے‘ اور اس سے مختلف خطرات پیدا ہورہے ہیں۔ آبادی پر قابو کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے سڑک سے پارلیمنٹ تک کوشش ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں ہند و مسلم دونوں کے لئے دوبچوں کا قانون ہونا چاہئے اور جو اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کو حق رائے دہی سے محروم کردینا چاہئے۔

گری راج سنگھ نے کہاکہ ووٹ کے ٹھکیداروں نے آبادی کو مذہب سے جوڑ دیا ہے۔ آبادی پر قابو کو اسلامی ممالک تسلیم کررہے ہیں‘ لیکن ہندوستان میں اسے دھرم سے جوڑا جاتا ہے۔گری راج سنگھ نے کہاکہ جہاں جہاں ہندوؤں کی آبادی گرتی ہے وہاں وہاں سماجی اہم آہنگی ٹوٹ رہی ہے۔

ملک میں کچھ لوگ اپنے فائدے کے لئے سماج میں بھرم پھیلاتے ہیں۔ اویسی جیسے لوگ سماجی ہم آہنگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

اس سے قبل گر ی راج نے اپنے ٹوئٹ میں بڑھتی آبادی ملک کو 1947کی طرح ایک اورتقسیم کی طرف لے جارہی ہے کا حوالہ دیا

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT