یکساں سیول کوڈ کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا، جماعت اسلامی ہند کے قومی نائب صدور سلیم انجینئر اور ملک معتصم خاں کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/3 مارچ، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے اتراکھنڈ میں بی جے پی حکومت کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ جماعت اسلامی نے کہا کہ آسام اور اترا کھنڈ میں شریعت میں مداخلت کرتے ہوئے مسلمانوں کے عائیلی قوانین کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر، نائب امیر ملک معتصم خاں اور قومی سکریٹری محترمہ رحمت النساء نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کے ذریعہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بند کئے جانے پر ناراضگی جتائی۔ جماعت اسلامی قائدین نے کہا کہ آسام اور اترا کھنڈ کی بی جے پی حکومتیں شریعت میں مداخلت کے ذریعہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے بہانے تلاش کررہی ہے۔ شادی اور طلاق رجسٹریشن ایکٹ 1935 کو آسام حکومت نے منسوخ کردیا ہے۔ ریاست میں مسلم شادیوں اور طلاق کیلئے مذکورہ قانون کے تحت رجسٹریشن کا عمل حکومت کے مجاز قاضیوں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ آسام کے مسلمانوں کو اب 1954 کے اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت اپنی شادیاں درج کرانی ہوں گی۔ حکومت کا یہ فیصلہ دستور ہند کے خلاف ہے بلکہ اسلاموفوبیا کا واضح ثبوت ہے۔ چائیلڈ میریج کو روکنے کے نام پر آسام حکومت نے مسلم پرسنل لاء کو نشانہ بناتے ہوئے ہندو ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کے اقدام سے مسلم شادیوں کے ڈاکیومنٹیشن میں دشواریاں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے اتراکھنڈ میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی اور کہا کہ ہر مذہب کے علحدہ پرسنل لاء کی جگہ ایک قانون کو مسلط کرنا دستور کے خلاف ہے۔ جماعت اسلامی کے قائدین نے کہا کہ دستور میں دفعہ 144 کا تذکرہ موجود ہے لیکن اسے حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ملک معتصم خاں نے مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بند کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ فاؤنڈیشن کے پاس فنڈز کی موجودگی کے باوجود اسے بی جے پی حکومت نے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی روکنے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا تاکہ مسلمان پسماندہ رہیں۔ جماعت اسلامی نے غزہ کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اب تک 30 ہزار فلسطینی شہید اور 70 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث ہے اور عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ غزہ میں فوری جنگ بندی اور اسرائیلی حکومت کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا۔1