مرکز برائے خطاطی و گرافک ڈیزائن کی کارکردگی کی ستائش، پروفیسر ایس اے شکور نے تفصیلات سے واقف کرایا
حیدرآباد۔/28 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ادارہ ادبیات اردو میں خطاطی کی تربیت پر ایران کے مشہور خطاط موسیٰ رسول نے مسرت کا اظہار کیا اور ادارہ ادبیات اردو کی سرگرمیوں کی ستائش کی۔ پنجہ گٹہ میں واقع تربیتی مرکز برائے خطاطی و گرافک ڈیزائن کا دورہ کرتے ہوئے ایران کے خطاط نے فن خطاطی کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔ ادارہ ادبیات اردو کے سکریٹری پروفیسر ایس اے شکور، نائب معتمد رفیع الدین کے علاوہ سنٹر کے انچارج محمد عبدالغفار نے ایرانی خطاط کو تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے ادارہ میں موجود خطاطی کے نادر و نایاب نمونوں کا مشاہدہ کرایا اور طلباء و طالبات کی جانب سے اس فن کو سیکھنے میں دلچسپی کی تفصیلات پیش کیں۔ ادارہ ادبیات اردو کے مرکز میں بڑی تعداد میں طلبہ اس فن کو سیکھ رہے ہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ 1931 میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کے دور میں ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے ادارہ ادبیات اردو کا قیام عمل میں لایا۔ مرکز خطاطی سے 8000 سے زائد طلبہ تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد حکومت نے خطاطی کو اسکول کے نصاب میں شامل کیا ہے۔ پری پرائمری اور پرائمری کے خطاطی نصاب کو 2016 میں تیار کیا گیا۔ ادارہ ادبیات میں دو سالہ ڈپلوما کورس مفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارہ سے تربیت حاصل کرنے والے کئی نوجوان خلیجی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایرانی خطاط موسیٰ رسول نے طلبہ سے بات چیت کی اور اپنے فن کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ر