جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی معاملہ کو سب سے پہلے سیاست اخبار کے ذریعہ افشاء کرنے کا اعزاز ، جلد ہی جی او کی تنسیخ متوقع
حیدرآباد۔13۔اگسٹ(سیاست نیوز) اردو صحافت کی طاقت و اثر کو قبول نہ کرتے ہوئے اسے غیر اہم قرار دینے والوں کو چاہئے کہ وہ اخبار کے ذریعہ چلائی جانے والی تحریک کے اثرات کو محسوس کریں اور خود کو قوانین سے بالاتر تصور کرنے کا سلسلہ بند کریں۔’’اردو اخبارات کو حدود میں رہ کر کام کرنے کا مشورہ دینے اور اردو اخبارات کی اہمیت پر سوال اٹھانے والے چوکنا ہوجائیں‘‘ علاوہ ازیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں ’’ اخبارات میں 4دن خبریں شائع ہوتی ہیں اور لوگ بھول جاتے ہیں انہیں بھی اردو صحافت کی اہمیت کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے معاملہ کو ’روزنامہ سیاست‘ نے ہی سب سے پہلے منظر عام پر لاتے ہوئے جائیداد کے ہراج کا افشاء کیا تھا اور اسٹیٹ بینک کی دعویداری کے سلسلہ میں کئے جانے والے دعوؤں کو پیش کرتے ہوئے جائیداد کے ’وقف ‘ ہونے کا انکشاف کیا تھا ۔ 23 جون 2026 کو کئے گئے اس انکشاف کے بعد سے ہی محکمہ اقلیتی بہبود اور دیگر متعلقہ محکمہ جات میں تشویش کی لہر پیدا ہوچکی تھی اور ’جامعہ نظامیہ ‘ اور طلبائے قدیم جامعہ نظامیہ بھی رائے درگ کی اس اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں سرگرم ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومت نے یکم اگسٹ 2026 کو دوبارہ سروے نمبر83 میں موجود وقف جائیدادمیں 10ایکڑ 63 گنٹے اراضی کے ہراج کا اعلامیہ جاری کیا تھا اور ’روزنامہ سیاست‘ نے اس معاملہ کو بھی 2اگسٹ کے شمارہ میں منظر عام پر لاتے ہوئے اس 1لاکھ25ہزار کروڑ روپئے مالیاتی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں باضابطہ مہم کا آغاز کیا جس پر آج نہ صرف عدالت میں رٹ درخواست دائر ہوئی بلکہ اہم اپوزیشن بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر نے چیف منسٹر کو مکتو ب روانہ کرتے ہوئے ہراج کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اسی طرح ’روزنامہ سیاست ‘ نے 26 جولائی کو ’تلنگانہ اردو اکیڈیمی ‘ کی 5220مربع گز 100کروڑ مالیتی اراضی کو 30 سال پر دینے کے لئے جاری کئے گئے غیر قانونی جی او ایم ایس 20 کی اجرائی کا انکشاف کرتے ہوئے اقلیتی ادارہ کی اس جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنایا اور محکمہ اقلیتی بہبود نے جی او ایم ایس 20کو زیر التواء رکھنے کے لئے جی او 22 کی اجرائی عمل میں لائی ہے اور اطلاعات کے مطابق جلد ہی اس جی او کی تنسیخ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے والے ہیں۔