اسمبلی میں اپوزیشن کی آواز دبانے کی سازش: بھٹی وکرامارکا

,

   

قومی جماعت کو محض 6 منٹ، ناکامیوں کو چھپانے حکومت کی کوشش

حیدرآباد۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ حکومت اسمبلی میں اپوزیشن کو عوامی مسائل پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے اسمبلی میں اظہار خیال کیلئے انہیں صرف 6 منٹ دیئے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اسمبلی سے اپوزیشن کے خاتمہ کی سازش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایل پی لیڈرکی حیثیت سے وہ ہر مسئلہ پر تفصیلی اظہار خیال کا حق رکھتے ہیں لیکن کے سی آر اسمبلی کو یکطرفہ طور پر چلانا چاہتے ہیں۔ ارکان اسمبلی سریدھر بابو، کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی، سیتکا ، جئے پرکاش ریڈی اور رکن کونسل جیون ریڈی کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل سے حکومت کو آگاہ کرنے کیلئے اسمبلی واحد ذریعہ ہے۔ کانگریس تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ اپوزیشن سے حکومت اس لئے بھی خوفزدہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکام ہوچکی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ مجلس ایوان میں حکومت کی حلیف جماعت کا رول ادا کررہی ہے۔ قومی پارٹی کو اظہار خیال کیلئے صرف 6 منٹ کا وقت دینا باعث افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کی تعداد کی بنیاد پر وقت مقرر کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ کانگریس کے 19 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور عوام نے اپوزیشن کی ذمہ داری دی لیکن لالچ کے ذریعہ اپوزیشن کو کمزور کردیا گیا اور کانگریس ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی رکاوٹوں کے باوجود کانگریس اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔