اعظم خان کو ای ڈی کی گرفتاری کیخلاف سپریم کورٹ سے راحت نہیں

   

لکھنؤ ۔5؍نومبر ( ایجنسیز)سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گرفتار کیے جانے کیخلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ سے راحت نہیں ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعرات 5 نومبر کو اعظم خان کو الٰہ آباد ہائی کورٹ جانے کا حکم دیا ہے۔ جوہر یونیورسٹی سے وابستہ منی لانڈرنگ معاملے میں رامپور جیل سے رہائی کے فوراً بعد ای ڈی کی جانب سے گرفتاری کو اعظم خان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے اعظم خان کی عرضی پر 16 نومبر کو سماعت کرنے کو کہا اوررجسٹری کو حکم دیا کہ اس معاملے کے تمام ریکارڈ 2 دن کے اندر الٰہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیں۔ اعظم خان کے وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ اعظم خان کیخلاف 28 مقدمات درج ہیں۔ ان میں منی لانڈرنگ کا ایک معاملہ بھی شامل ہے یہ سراسر ہراسانی ہے۔ 2006 کے کسی واقعہ کیلئے 2019 میں ایف آئی آر درج کی گئی، اب وہ اقتدار میں بھی نہیں ہیں تو کوئی ایف آئی آر کیسے درج کر سکتا ہے؟ اعظم خان کی عمر 80 سال ہے۔ انہیں ضمانت دی جائے۔

کپل سبل نے کہا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ جیل میں ہی مر جائیں گے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اعظم پر الزام ہے کہ یونیورسٹی کے لیے کسانوں سے زبردستی زمین حاصل کی گئی تھی۔