افغانستان میں تصادم کے دوران 21فوجی، 15طالبان ہلاک

طالبان کے ہاتھوں دو پولیس ملازمین ہلاک ، ہیرات میں دو چوکیوں پر حملہ

کابل، 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے مغربی صوبہ بگدیس میں سکیورٹی فورسیز اور طالبان باغیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں 21 جوان اور 15 جنگجو ہلاک ہو گئے ۔ صوبائی کونسل کے افسر عبدالعزیز بیگ نے بتایا کہ اتوار کی رات کو ضلع کادس کے کرجاگئی علاقے میں چیک پوسٹ پر بڑی تعداد میں جنگجوؤں نے حملہ کرکے تین فوجیوں اور افغان لوکل پولیس (اے ایل پی) کے 11 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ افغان حکومت نے سنہ 2010 میں پورے ملک کے مواضعات اوراضلاع میں سکیورٹی کیلئے اے ایل پی یا کمیونٹی پولیس کی تشکیل کی گئی ہے ، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں فوج اور پولیس کی موجودگی کم ہے ۔ اس کے علاوہ ضلع آب کماری کے گنداب علاقے میں اتوار کو طالبان باغیوں کے ساتھ مڈ بھیڑ میں ایل اے پی کے 7 جوان مارے گئے اور نو دیگر زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے کہا،‘ اس مڈ بھیڑ میں کئی جنگجو بھی مارے گئے اور زخمی ہوئے لیکن ان کی صحیح تعداد کا پتہ نہیں چل سکا کیونکہ وہ تمام زخمیوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ افغانستان کے شمالی صوبہ بغلان میں طالبان جنگجووں نے پولیس کی ایک گاڑی پر گزشتہ روز دیر رات گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت دو پولیس اہلکار مارے گئے ۔صوبائی کونسل کے پولیس افسر بسم اللہ عطاش نے آج یہ اطلاع دی۔ مسٹر عطاش نے کہا، “بغلان صوبے میں ضلع دوشی کے کیلاگئے علاقے میں اتوار کی دیر رات حملے میں افغانستان پولیس کی فوجی یونٹ ‘افغان نیشنل پولیس ہائی وے کمپنی’ کے کمانڈر فواد عطاہی اور ایک اور پولیس افسر کی موت ہو گئی۔”انہوں نے بتایا کہ اس حملے کو انجام دینے کے فورا بعد دہشت گرد فرار ہو گئے ۔ مسٹر عطاہی کو آج سپرد خاک کیا جائے گا۔بغلان صوبے میں سیکورٹی فورسز اور طالبان جنگجووں کے درمیان طویل عرصے سے جنگ چل رہی ہے۔ یہ ہلاکتیں دو فوجی چوکیوں پر حملوں کے دوران باہم جھڑپ میں پیش آئیں۔

TOPPOPULARRECENT