ترکیہ کی شاہانہ شادی: 6 ملین لیرا کے تحائف، ہزاروں مہمان، سوشل میڈیا پر بحث

   

شرناق۔ 20 جولائی (ایجنسیز) اگر کسی شادی میں دلہا اور دلہن کو کروڑوں روپے مالیت کے تحائف ملیں، ہزاروں مہمانوں کی تواضع کے لیے درجنوں بھیڑیں ذبح کی جائیں اور تقریب دو دن تک جاری رہے تو یقیناً وہ صرف ایک خاندانی تقریب نہیں رہتی بلکہ پورے ملک میں گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے۔ ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے شرناق میں ہونے والی ایک ایسی ہی شادی نے لاکھوں لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے، جہاں روایات، شان و شوکت اور مہمان نوازی کا ایسا امتزاج دیکھنے میں آیا جس کی تصاویر اور ویڈیوز اب دنیا بھر میں وائرل ہو رہی ہیں۔ یہ شادی بوشہاب علاقے کے گاؤں موتلوجا میں منعقد ہوئی، جہاں دو دن تک جشن کا سماں بندھا رہا۔ تقریب میں ترکیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ یورپ اور دیگر ممالک سے بھی مہمان شریک ہوئے۔ گاؤں میں ہر طرف خوشی کا ماحول تھا، روایتی موسیقی گونج رہی تھی اور لوگ سینکڑوں کی تعداد میں مشہور ترک لوک رقص ”ہالائے’’میں شریک ہو کر جشن مناتے رہے۔ اس شادی کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی بات دولہا اور دلہن کو ملنے والے تحائف تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق دونوں کو مجموعی طور پر 6 ملین ترک لیرا مالیت کے تحائف دیے گئے، جو تقریباً ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔ دلہن کو سونے کے بھاری زیورات پہنائے گئے جبکہ دولہا کو نقد رقم کے لفافوں کی صورت میں لاکھوں لیرا دیے گئے۔ تقریب میں موجود افراد کے مطابق تحائف دینے کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا اور ہر آنے والا مہمان اپنی استطاعت کے مطابق نقد رقم یا سونے کا تحفہ پیش کرتا رہا۔ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے مہمانوں کی میزبانی بھی کسی امتحان سے کم نہیں تھی۔ منتظمین نے پہلے ہی وسیع انتظامات کر رکھے تھے۔ دعوت کے لیے 35 بھیڑیں ذبح کی گئیں اور روایتی ترک کھانوں کی بڑی دیگیں تیار کی گئیں تاکہ ہر مہمان کی بھرپور خاطر مدارت کی جا سکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں شادی صرف دو افراد کا بندھن نہیں بلکہ پورے خاندان اور برادری کی خوشی سمجھی جاتی ہے، اسی لیے مہمان نوازی میں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی جاتی۔ دولہا کے رشتہ دار سیف اللہ انجن نے کہا کہ اگرچہ تحائف کی مالیت بہت زیادہ تھی، لیکن ان کے نزدیک سب سے بڑی دولت خاندان، دوستوں اور رشتہ داروں کی محبت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود بھی 2 لاکھ 50 ہزار ترک لیرا بطور تحفہ پیش کیے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی تقریبات کا اصل مقصد لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا، رشتوں کو مضبوط بنانا اور نئی زندگی شروع کرنے والے جوڑے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ دلہن روجین ارجان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ دن ان کی زندگی کا سب سے یادگار دن بن گیا ہے۔ ان کے مطابق مہمانوں کی محبت، دعائیں اور خاندان کی موجودگی ہر قیمتی تحفے سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تقریب کی یادیں ہمیشہ اپنے دل میں محفوظ رکھیں گی۔شادی کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک طبقے نے اسے ترکیہ کی ثقافت، قبائلی روایات اور مہمان نوازی کی خوبصورت مثال قرار دیا۔دوسری جانب بہت سے صارفین نے سوال اٹھایا کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے اس دور میں شادی پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنا کہاں تک مناسب ہے؟ بعض افراد نے رائے دی کہ اگر یہی سرمایہ نئے جوڑے کے کاروبار، گھر یا مستقبل پر خرچ کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔
ماہرین کے مطابق ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبوں میں بڑے پیمانے پر شادیاں منعقد کرنا برسوں پرانی روایت ہے۔ یہاں خاندان اپنی سماجی حیثیت، مہمان نوازی اور باہمی تعلقات کے اظہار کے لیے کئی دن تک جاری رہنے والی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ سونے کے زیورات اور نقد رقم کے تحائف کو نئے جوڑے کی مالی مدد اور نئی زندگی کے آغاز میں تعاون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بھی ترکیہ کی متعدد شادیاں اپنے غیر معمولی اخراجات، قیمتی تحائف اور ہزاروں مہمانوں کی وجہ سے عالمی میڈیا کی سرخیاں بن چکی ہیں۔ شرناق کی یہ شادی بھی اسی روایت کی ایک نئی مثال بن گئی ہے، جس نے ایک بار پھر یہ سوال چھیڑ دیا ہے کہ کیا یہ شان و شوکت ثقافتی ورثہ ہے یا بدلتے معاشی حالات میں اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے؟