افغانستان میں خواتین کیلئے برقعہ پہننا لازمی

,

   

کابل ۔ افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک میں تمام عورتوں کے لئے برقعہ پہننا لازمی ہو گیا ہے۔ ہفتہ سات مئی کو دارالحکومت کابل میں منعقدہ ایک تقریب میں مذکورہ حکم نامہ جاری کیا گیا۔ اس کے مسودے کے تحت، ’عورتوں کو چادر اوڑھنی چاہئے، جو روایات کے مطابق ہے۔‘ حکم نامہ میں مزید لکھا ہے کہ جو لڑکیاں کم عمر ہیں، انہیں آنکھوں کے سوا اپنا چہرہ مکمل طور پر ڈھکنا لازمی ہے، جیسا کے شریعہ میں بیان کیا گیا ہے۔ طالبان کی اس سے قبل سن 1996 سے لے کر سن 2001 تک افغانستان میں حکومت تھی۔ اس دور میں بھی طالبان نے خواتین پر ایسی ہی سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔جہاں تک لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دینے کا سوال ہے افغان طالبان نے علما سے مشاورت کے لیے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کے اسکول کھولنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق طالبان کی وزارت تعلیم کے ترجمان عزیز احمد رایان نے جمعہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ علما کو ذمہ داری کی گئی ہے کہ وہ لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کے معاملے پر اتفاق رائے تک پہنچیں۔ اس سے قبل چہارشنبہ کو افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے خوست میں ایک تقریب سے خطاب میں طالبان کے سینئر قائد انس حقانی نے کہا تھا کہ لڑکیوں کے اسکول کے معاملے کو حل کرنے کے لیے مسلم علما کا اجلاس بلایا جائے گا۔ البتہ انہوں نے اس اجلاس کی حتمی تاریخ سے متعلق کچھ نہیں کہا تھا۔ عزیز احمد رایان نے کہا کہ اس معاملے پر عید کے بعد علما کی ملاقاتیں اور مشاورت ہو گی جس کے بعد اس کو حتمی شکل دی جائے گی اور امید ہے۔ اللہ نے چاہا تو ان ملاقاتوں کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘سیو دی چلڈرن کے مطابق 80 فی صد ثانوی اسکولوں کی لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا جاتا ہے۔