پریس نوٹ میں کئے گئے الیکشن کمیشن کے دعوؤں کی حقیقت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے:جئے رام رمیش
نئی دہلی، 27 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے الیکشن کمیشن کے پریس نوٹ کو نقصان پر قابو پانے کی مایوس کن کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں سچائی چھپانے کی کوشش کی گئی ہے ، لیکن ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے سلسلے میں مجوزہ اقدامات اس بات کا اعتراف ہیں کہ پورا عمل پوری طرح ناکام رہا ہے ۔ کانگریس کے شعبئہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے پریس نوٹ میں کیے گئے دعووں کی حقیقت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے ۔ ایس آئی آر کے تحت ہٹائے گئے یا ہٹائے جانے کے خطرے سے دوچار ووٹروں کے لیے تجویز کردہ معمولی اقدامات بڑے پیمانے پر حقِ رائے دہی چھینے جانے کے بحران کو کم کرنے میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 5.43 کروڑ ووٹروں کے نام ہٹنے کے خطرے پر الیکشن کمیشن کا یہ کہنا کہ بوتھ سطح کے افسر ان کے گھروں پر جائیں گے ، سوال کھڑا کرتا ہے ۔ ایس آئی آر کے تینوں مرحلوں میں اب تک ہٹائے گئے تقریباً 14 کروڑ ووٹروں کو اپنے نام دوبارہ شامل کرانے کیلئے نئے سرے سے درخواست دینی ہوگی۔ رمیش نے کہا کہ ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کے مرکزی کردار، حقیقی ووٹروں کے نام ہٹانے اور انتخابی رجسٹریشن افسران کے اختیارات کو نظرانداز کرنے کے الزامات پر الیکشن کمیشن نے واضح جواب نہیں دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سافٹ ویئر کی قانونی حیثیت پر شک کو تسلیم کیا گیا ہے ، لیکن گوا کے مسئلے کا ذکر کرنے کے باوجود مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کے بارے میں صورتحال واضح نہیں کی گئی۔ عوامی نمائندگی قانون، 1950 کے تحت حتمی اختیار انتخابی رجسٹریشن افسران کا ہے ، اس پر بھی کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے ۔ ای سی آئی نیٹ کا انتظام کون کر رہا ہے اور ٹی سی ایس یا ٹاٹا گروپ کا اس میں کیا کردار ہے ، اس پر بھی شفافیت کی کمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اور مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کی بات سامنے آئی ہے ، جبکہ گزشتہ جولائی میں الیکشن کمیشن نے اقوام متحدہ کو بتایا تھا کہ کسی بھی مرحلے پر مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے اس کے استعمال کے بارے میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا مطالبہ گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور ان کے دور میں لیے گئے تمام فیصلوں کو واپس لینے کا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی اس پیغام کو آخری ووٹر تک پہنچائے گی اور جمہوری ڈھانچے کے تحفظ کے لیے عوامی دباؤ بناتی رہے گی۔