یہ مقدمہ 2005 کے سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر کیس کے سلسلے میں امیت شاہ کے بارے میں راہول گاندھی کے ریمارکس پر دائر کیا گیا تھا؛ اس کیس میں سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے 2014 میں امیت شاہ کو الزامات سے بری کر دیا تھا۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی کو پیر، 26 اکتوبر کو یہاں ایک خصوصی ‘ایم پی-ایم ایل اے’ عدالت نے ہتکِ عزت کے ایک مقدمے سے بری کر دیا۔ یہ مقدمہ 2018 میں بی جے پی کے اس وقت کے صدر امیت شاہ کے خلاف دیے گئے ان کے ریمارکس کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور رائے بریلی سے رکن پارلیمنٹ، راہول گاندھی فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت میں پیش ہوئے۔
مدعی وجے مشرا کے وکیل سنتوش پانڈے نے بتایا کہ عدالت نے گاندھی کو بری کر دیا ہے۔
کانگریس کارکنوں نے عدالتی احاطے کے باہر ڈھول بجا کر اور آپس میں مٹھائیاں تقسیم کر کے فیصلے کا جشن منایا۔
پولیس حکام کے مطابق، عدالتی کارروائی کے پیشِ نظر سلطان پور میں، خاص طور پر عدالتی احاطے کے ارد گرد، سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے تھے۔
یہ مقدمہ 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل بنگلورو میں منعقدہ ایک ریلی کے دوران امیت شاہ کے خلاف راہول گاندھی کی جانب سے دیے گئے ریمارکس سے متعلق ہے۔
سلطان پور کے مقامی بی جے پی رہنما اور ڈسٹرکٹ کوآپریٹو بینک کے سابق چیئرمین وجے مشرا نے 4 اگست 2018 کو راہول گاندھی کے خلاف ہتکِ عزت کی شکایت درج کرائی تھی۔
راہول گاندھی 2023 میں عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت حاصل کی۔ عدالت نے اس سے قبل فیصلہ سنانے کے لیے 13 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جسے بعد میں تبدیل کر کے 26 اکتوبر کر دیا گیا تھا۔