امارات کا اسرائیل سے یہودی آباد کاری ختمکرنے اور دو ریاستی حل اپنانے کا مطالبہ

   

نیویارک : سلامتی کونسل کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات نے مسئلہ فلسطین پر یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اسرائیل سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں آباد کاری کی تمام سرگرمیاں روکنے، تشدد کو کم کرنے، امن عمل کو بحال کرنے اور دو ریاستی حل کو لازم پکڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔امارات کے مستقل مندوب کے نائب اور قائم مقام ناظم الامور محمد ابو شہاب کے ذریعہ سلامتی کونسل میں پیش کئے گئے اپنیبیان میں امارات نے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے آباد کاری روکنے کے مطالبہ کی تجدید کی اور کہا کہ یہ آباد کاری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور امن کو نقصان پہنچاتی ہے۔ امارت نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو یہودی آباد کاری کے نئے اعلان کردہ منصوبوں سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ متحدہ عرب امارات نے فلسطینی زمینوں کو ضم کرنے یا اسے قانونی بنانے کیلئے کسی بھی اقدام کو بھی مسترد کردیا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے طرز عمل سے دو ریاستی حل کے مستقبل کے متعلق بہت سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ امارات نے اشتعال انگیز بیان بازی سے دور رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تشدد کو کم کرنے کے اقدامات کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ خاص طور پر یہودی آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے، مسماری اور بے دخلی کی کارروائیوں نے اس سال 700 سے زیادہ فلسطینی عمارتوں کو متاثر کیا۔ امارات نے کہا ایسے غیر قانونی اقدامات غصے اور مایوسی کے جذبات کو ہوا دیتے ہیں اور ان سے تصادم بڑھتا ہے۔