نیویارک ؍ تہران ۔ 31 اگست (ایجنسیز) امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر فوجی حملے پھر شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواباً اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد امریکہ اور ایران کی افواج نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر موجود دو میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے جواباً اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، حالانکہ اردن کا کہنا ہے کہ اس نے ان میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی افواج نے اتوار کے روز لارک جزیرے پر دو ایرانی لانچروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے والے راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکہ نے ایرانی جزیرے پر ڈرون حملہ کیا۔ یہ کارروائی جولائی کے اواخر کے بعد سے ایران کے خلاف امریکہ کا پہلا معلوم فوجی حملہ ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے توانائی کے اہم مرکز خارگ جزیرے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ فوری طور پر ایسی کوئی دوسری رپورٹ سامنے نہیں آئی جس میں خارگ جزیرے پر حملے کی تصدیق کی گئی ہو۔ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران اور اس کے کاروباری شراکت داروں پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر کے تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہی تھی۔