انجینئرنگ فیس 2.5 لاکھ تک بڑھانے کی تجویز پر عہدیداروں کو اعتراض

   

فیس تجاویز پر نظرثانی کرنے ایف آر سی کو ہدایت ، اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ

٭ 3 سال بعد کیا 5 لاکھ روپئے فیس وصول کی جائے گی ؟
٭ بعض کالیجس کی فیس تجاویز پر عہدیدارں کی برہمی
٭ کالیجس کی من مانی نہیں چلے گی
٭ انجینئرنگ فیس میں اضافہ کا فیصلہ ملتوی

حیدرآباد۔ 14مئی (سیاست نیوز) انجینئرنگ کالیجس کی فیس کا تعین کرنے کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، کیونکہ کمیٹی نے کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے موجودہ 1.5 لاکھ روپئے فیس میں اضافہ کرتے ہوئے 2.5 لاکھ روپئے کردینے کی تجویز پر سخت اعتراض کیا اور کالج انتظامیہ سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ لوگ آئندہ تین سال کے بعد طلبہ کے والدین سے 5 لاکھ روپئے سالانہ فیس وصول کروگے؟ منگل کو سیکریٹریٹ میں فیس مقرر کرنے والی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ واضح رہے کہ ہر تین سال بعد فیس پر نظرثانی کی جاتی ہے۔ فیس ریگولیٹری کمیٹی نے کالجس کی جانب سے جمع کرائی گئی آڈیٹر رپورٹس کی بنیاد پر فیس اِسٹرکچر پہلے ہی تیار کرلی ہے۔ اس جائزہ اجلاس میں محکمہ تعلیم کی پرنسپل سیکریٹری یوگیتا رانا، کمشنر ٹیکنیکل ایجوکیشن سری دیو سینا، صدرنشین ہائیر ایجوکیشن کونسل پروفیسر بالا کشٹا ریڈی کے علاوہ دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ عہدیداروں نے شہر کے مضافات میں چند کالیجس کی طرف سے تجویز کردہ فیسوں پر حیرت کا اظہار کیا۔ تین سال میں ایک نشست پر ایک لاکھ روپئے تک اضافہ کیا جارہا ہے، یہ کیسی تجویز ہے، اس کی بنیاد کیا ہے؟ اخراجات میں اضافہ ہونے کی آڈیٹر رپورٹ دینے پر کیا فیسیس میں اضافہ کیا جائے؟ کمیٹی نے کالج مینجمنٹس سے سوال کیا۔ اکثر کالیجس میں 1,500 سے زائد نشستیں ہیں، ایک سال میں اس حساب سے فیس کی شکل میں 24 کروڑ روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ فیس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ رقم بڑھ کر 40 کروڑ روپئے ہوجائے گی۔ یوگیتا رانا اور سری دیو سینا نے کہا کہ اگر اس طرح فیس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو طلبہ کے علاوہ فیس ری ایمبرسمنٹ ادا کرنے والے ریاست کے خزانہ پر زبردست مالی بوجھ عائد ہوگا۔ کمیٹی نے چند مشہور کالیجس کی جانب سے 2 لاکھ روپئے تک فیس میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی نے ایف آر سی کی سفارش کو کسی بھی صورت میں قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ فیس میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ ایف آر سی تجویز پر نظر ثانی کرتے ہوئے نئی فہرست تیار کرتی ہے تو پھر ایک مرتبہ اجلاس طلب کرتے ہوئے فیس کو قطعی شکل دی جائے گی۔ 2