انٹر میڈیٹ نتائج: مزید 3 طلبہ کی خودکشی، عہدیداروں کی لاپرواہی برقرار

طلبہ کی پریشانیوں کو دور کرنے کی فکر نہیں، بورڈ کی ویب سائیٹ بھی بند،طلبہ کے احتجاج میں شدت

حیدرآباد۔/24 اپریل، ( سیاست نیوز)انٹر میڈیٹ امتحانات میں ناکام مزید 3 طلبہ نے خودکشی کرلی ہے۔ خودکشی کرنے والے ان طلبہ میں 2 طالبات شامل ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تلنگانہ بھر میں انٹر میڈیٹ امتحانات میں ناکام طلبہ میں بڑھتی مایوسی جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔3 طلبہ کی خودکشی کے ساتھ ہی گزشتہ چند دن کے دوران مبینہ طور پر خودکشی کرلینے والے طلبہ کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔ انٹر میڈیٹ امتحانات کے نتائج کے اعلان کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔ طلبہ اور اُن کے والدین نے آج بھی تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹر میڈیٹ دفتر کے قریب جمع ہوکر احتجاج کیا۔ مختلف طلبہ تنظیموں کے ارکان نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور نتائج میں ناکام طلبہ سے انصاف کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے کہا کہ 18 سالہ طالب علم جو اکنامکس اور سیوکس میں ناکام ہوا تھا آج ضلع میدک کے مدور میں اسکول کے احاطہ میں پھانسی پر لٹکا ہوا پایا گیا۔ ایک 17 سالہ طالبہ نے بھی ضلع یادادری بھونگیر میں خودکشی کرلی۔ایک اور واقعہ میں 19 سالہ سال دوم کی طالبہ نے فزکس اور زوالوجی میں ناکامی پر ضلع رنگاریڈی میں اپنے مکان میں پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔ تلنگانہ ریاستی بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن امتحانات انٹر میڈیٹ کے نتائج کی اجرائی میں ہی نہیں بلکہ بعد ازاں پیدا شدہ حالات و مسائل کی یکسوئی میں بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ امتحانات انٹر میڈیٹ میں ناکام طلباء و طالبات کے والدین کا الزام ہے کہ بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کے عہدیدار اتنے بڑے پیمانہ پر جاری احتجاج وغیرہ کے باوجود اپنی لاپرواہی جیسا موقف ہی اختیار کئے ہوئے ہیں اور احتجاجی طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو اطمینان بخش جواب دینے سے عملاً گریز کررہے ہیں۔ طلباء و طالبات کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر تعلیم مسٹر جگدیش ریڈی سے لے کر بورڈ اف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کے عہدیداروں تک صرف یہی مشورہ طلباء و طالبات کو دے رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر نشانات کی دوبارہ گنتی اور پرچوں کی دوبارہ جانچ کیلئے درخواستیں پیش کریں۔ لیکن درخواستیں داخل کرنے کیلئے ویب سائیٹ اوپن نہ ہونے کی شکایات کے باوجود خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ہزاروں طلباء و طالبات تلنگانہ ریاستی بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کے روبرو احتجاج کرنے پر پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کرواکر احتجاجی طلباء و طالبات کے ساتھ زیادتی کرواکر انہیں گرفتار کروارہے ہیں،کم از کم طلباء و طالبات سے درخواستیں بھی حاصل نہیں کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے طلباء و طالبات کی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ( سلسلہ صفحہ 7 پر)

TOPPOPULARRECENT