Monday , August 19 2019

او آئی سی اجلاس میں ہندوستان بحیثیت اعزازی مہمان مدعو

ہندوستان میں 185 ملین مسلمانوں کی موجودگی اور عالم اسلام کیلئے خدمات کا اعتراف :وزارت خارجہ

او آئی سی اجلاس سے سشما سوراج خطاب کریں گی

نئی دہلی ۔ /23 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) تنظیم اسلامی تعاون (آئی او سی) کے وزراء خارجہ کے اجلاس سے قبل ایک نمایاںقدم کے طور پر ہندوستان کو مدعو کیا گیا ہے۔ مسلم اکثریتی ملکوں کی اس طاقتور تنظیم کے اس اہم اجلاس میں وزیر خارجہ سشما سوراج ’ مہمان اعزازی‘ کی حیثیت سے شرکت کریں گے اور اجلاس سے خطاب کریں گی۔ وزارت امور خارجہ نے اس دعوت کو دراصل عالم اسلام کے لئے ہندوستان کی خدمات متنوع و تکثیری اقدار کے لئے ہندوستان کے کارہائے نمایاں اور اس ملک میں 185 ملین مسلمانوں کی موجودگی کا بجا طورپر اعتراف اور قابل خیرمقدم انداز میں اس کو تسلیم کرنا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم اسلامی تعاون (آئی او سی) کے اجلاس میں ہندوستان کو ’اعزازی مہمان‘ کے طور پر مدعو کیا گیا ہے ۔ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس یکم اور /2 مارچ کو ابوظہبی میں منعقد ہوگا ۔ او آئی سی کی طرف سے ہندوستان کو یہ دعوت نامہ ایک ایسے وقت موصول ہوا ہے جب وہ سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے پلوامہ دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی برادری سے الگ تلگ کرنے کے لئے اپنی سفارتی مساعی میں شدت پیدا کرچکا ہے ۔ او آئی سی بالعموم پاکستان کا حامی رہا ہے اور مسئلہ کشمیر پر اکثر اسلام آباد کی تائید کیا کرتا ہے ۔ وزارت امور خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد النہیان نے وزرائے خارجہ کے کھلے اجلاس عام سے خطاب کے لئے وزیر خارجہ سشما سواراج کو بحیثیت ’اعزازی مہمان‘ خطاب کی دعوت دی ہے اور ہندوستان نے خوشی کے ساتھ اس دعوت نامہ کو قبول کیا ہے ۔ وزارت امور خارجہ نے کہا کہ ’اس دعوت نامہ کو ہم متحدہ عرب امارات کے حامل بصیرت قیادت کی اس خواہش کے طور پر دیکھتے ہیں کہ ہمارے تیز رفتار فروغ پانے والے باہمی تعلقات اور آگے بڑھیں اور ہمہ فریقی و بین الاقوامی سطح پر حقیقی معنوں میں ہمہ گیر و ہمہ جہتی ساجھیداری قائم کی جائے ‘ ۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش نے گزشتہ سال یہ تجویز پیش کی تھی کہ تنظیم اسلامی تعاون کے منشور کی نئی صورت گری کی جائے تاکہ مسلم ملکوں کی 50 سال قدیم تنظیم میں ہندوستان جیسے غیر مسلم ممالک کی بحیثیت ’مبصر ملک ‘ شمولیت کی راہ ہموار کی جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT