اڈانی گروپ کی بے نامی سرمایہ کاری، سیبی کی جانچ پر نئے سوالات

,

   

نئی دہلی 18 فروری:(ایجنسیز)کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اڈانی گروپ سے متعلق ایک بار پھر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ بین الاقوامی انکشافات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ اور تشویش ناک بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک غیر ملکی تحقیقاتی رپورٹ میں اڈانی کے قریبی ساتھیوں کے ذریعے مبینہ بے نامی سرمایہ کاری کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو سرمایہ بازار کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔جے رام رمیش کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چانگ چنگ لِنگ اور ناصر علی شعبان اہلی نامی افراد نے مختلف مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر حصص جمع کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب دستاویزات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان افراد کے پاس اندازوں سے کہیں زیادہ حصہ داری موجود رہی، جس سے حصص کی ملکیت کے اصل ڈھانچے پر شبہات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2023 تک مختلف ہیج فنڈز کے ذریعے تقریباً تین ارب ڈالر مالیت کے شیئرز ان افراد کے کنٹرول میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ رمیش نے اس صورتحال کو نہایت سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ نہ صرف ضابطہ جاتی نظام بلکہ نگرانی کے پورے عمل پر سوالیہ نشان ہے۔کانگریس رہنما نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا، یعنی سیبی، کی کارروائی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق اڈانی گروپ سے متعلق زیر التوا معاملات میں خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی اور اب بھی درجنوں معاملات مکمل جانچ کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کیسوں میں اندرونی تجارت، کم از کم عوامی شیئر ہولڈنگ کے اصولوں کی ممکنہ خلاف ورزی، مشتبہ لین دین اور شیل کمپنیوں کے ذریعہ رقوم کی منتقلی جیسے حساس پہلو شامل ہیں۔جے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے جانچ کے عمل کو شفاف اور تیز بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مالیاتی نظام کی ساکھ اسی وقت مضبوط رہ سکتی ہے جب تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیق ہو۔وزیراعلیٰ پوشٹک الپہار یوجنا کیلئے 598 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جا سکے۔ اسی طرح اسکولی کھانے کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے 552 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جس کے تحت مختلف تعلقوں میں جدید مرکزی کچن قائم کیے جا رہے ہیں۔