الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل کے خلاف عوامی سطح پر کئی سوالات ، اندرا کرن ریڈی کی سیاست نیوز سے بات چیت
نرمل۔ 25ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سابق ریاستی وزیر جنگلات و سابق وزیر قانون اے اندراکرن ریڈی نے آج نرمل میں اپنی رہائش گاہ پر روزنامہ ’’سیاست‘‘ کے اسٹاف رپورٹر سید جلیل ازہر سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے طرزِعمل پر شدید تنقید کی۔ اندراکرن ریڈی نے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے جمہوری اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے والے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں مرکزی حکومت پر منتخب اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمنٹ کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے مختلف ریاستی حکومتوں کو کمزور کرنے اور گرانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، لیکن اب انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں سے متعلق اُٹھنے والے سوالات نے ملک بھر میں ایک نئی تشویش پیدا کردی ہے۔اُنہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے کہا کہ حالیہ تنازع نے الیکشن کمیشن کے طرزِکار پر عوامی سطح پر کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ان کے مطابق ووٹر کا حقِ رائے دہی جمہوریت کی بنیاد ہے اور کسی بھی اہل شہری کا نام انتخابی فہرست سے حذف ہونا انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اندراکرن ریڈی نے کہا کہ اگر انتخابی عمل سے متعلق بے ضابطگیوں یا ووٹوں کے مبینہ اخراج کے الزامات سامنے آرہے ہیں تو ان کی غیر جانبدار اور جامع تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آسکے اور کسی بھی اہل ووٹر کے حق پر زد نہ پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا نوجوان طبقہ انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شکایت اور ہر سوال کا دستوری اور قانونی دائرے میں شفاف جواب دیا جائے۔ سابق وزیر نے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل سے متعلق تمام سنگین الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داری طے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں کسی فرد کا عہدہ بڑا نہیں، بلکہ آئینی ادارے اور عوام کا اعتماد سب سے مقدم ہیں۔