ایران میں خواتین نے اسکول عہدیدار کوبھگا دیا خامنہ ای کے پوسٹر پھاڑ ڈالے

   

تہرا ن : ایران میں ایک لڑکی کی پولیس کے مبینہ تشدد میں ہلاکت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے۔دو ہفتے سے زاید عرصے سے جاری احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔بائیس سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کی کی موت کے بعد گذشتہ ایام کے دوران ملک کی مختلف جامعات میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یونیورسٹیوں میں پرتشدد احتجاج کے بعد ملک کے مغربی علاقوں میں کئی اسکولوں میں بھی حکومت مخالف احتجاج کی خبریں آ رہی ہیں۔مغربی تہران کے کرج شہر میں ایک اسکول کی طالبات نیکمرہ جماعت کی ایک دیوار پرلگے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پوسٹر پھاڑ ڈالے۔ جب کہ کچھ طالبات نے خامنہ کی تصاویر پھاڑ ڈالیں اور انہیں آگ لگا دی۔ادھر کرج میں ایک اور اسکول میں لڑکیوں نے وزارت تعلیم کے ایک عہدیدار کو اسکول سے بھگا دیا۔ احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق اسکول کی طالبات میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔