ایران کا مضبوط پوزیشن کے ساتھ امریکہ سے جنگ ختم کرنے کا اشارہ

   

تہران ۔ 22 اگست (ایجنسیز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے، اس لیے جنگ کا خاتمہ بہتر ہو گا۔عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق تہران میں ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران مسعود پزشکیان نے کہا کہ پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے اور امریکہ کی جانب سے اسکولوں، ہاسپٹلس اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی جا رہی ہے۔ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ جون میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کا بھی دفاع کیا اور پارلیمنٹ میں موجود سخت گیر حلقوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے یا رعایت دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی نئے خطرے کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بری، بحری، فضائی دفاع اور سائبر شعبوں میں مکمل تیاری موجود ہے۔ادھر عمان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونک رابطہ میں مذاکرات کی بحالی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔رپورٹ کے مطابق ایران نے اہم آبی گزرگاہ کو جزوی طور پر بند کر رکھا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے تیل بردار جہازوں کے خفیہ قافلوں کی حفاظت کر رہی ہے جس کے نتیجے میں روزانہ 5 سے 10 ملین بیرل تیل برآمد ہو رہا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی مذاکرات پر آمادگی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز اور اس سے منسلک علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی درست معاہدے کیلئے تیار نہیں۔
ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف اقتصادی کارروائی کی بھی دھمکی دی ہے۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کے خلاف سخت پابندیوں کے ذریعے ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کا اعلان کیا ہے۔ادھر ایران نے امریکی پابندیوں کے منصوبے کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔چین نے کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ مسئلے کے حل میں مدد نہیں دیں گے، تمام فریق سیاسی و سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کریں