حیدرآباد۔ 9اپریل (یواین آئی) آندھراپردیش کے حال ہی قائم ضلع انکاپلی کے نرسی پٹنم میں واقع سرکاری اسپتال میں ڈاکٹرس نے سل فونس کی روشنی میں خاتون کی زچگی کی کیونکہ بجلی کئی گھنٹوں تک غائب رہی۔یہ واقعہ این ٹی آرسرکاری اسپتال میں پیش آیا۔اس اسپتال میں تقریبا 8گھنٹے تک بجلی کی سپلائی نہیں رہی۔اس واقعہ کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیاجس میں دکھایاگیا ہے کہ ایک خاتون کے ہاتھ میں نوزائیدہ بچہ کے ساتھ ٹارچ لائٹ بھی ہے ۔ اسپتال میں بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ سے بیشتر مریض متاثر ہوئے ۔دیگر ویڈیوز میں دکھایاگیا کہ خواتین ہاتھوں سے بچوں کو پنکھاکررہی ہیں۔ایک تیمار دار نے کہا کہ یہ بڑا اسپتال ہے لیکن بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔یہاں تک کہ جنریٹربھی خراب ہے ۔یہ اسپتال دوزخ کا منظر پیش کررہا ہے جہاں پر ہوا کی آمد ورفت کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔رمیش کشور وشاکھاپٹنم ڈسٹرکٹ کوارڈی نیٹر ہاسپٹل سرویسس نے کہا کہ عہدیدار نرسی پٹنم اسپتال میں پیش آئے واقعہ کی جانچ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسپتال نے ڈیزل انورٹر جنریٹر پر چندگھنٹے کام کیا تاہم کچھ گھنٹوں بعد ڈیزل ختم ہوگیا۔7اپریل کو ٹکنیشن نے اسپتال پہنچ کر جنریٹر کو درست کیا۔بیشتر افراد بشمول سابق وزیراعلی این چندرابابونائیڈو نے سوشیل میڈیا پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا۔سلسلہ وار ٹوئیٹس میں چندرابابونائیڈو نے اسپتال کی ویڈیوز شیئر کی اور کہا کہ آندھراپردیش، تاریکی میں چلاگیا۔