سات افراد گرفتار، ہتھیاروں کے ذریعہ جبراً وصولی کا منصوبہ ناکام، کمشنر پولیس ملکاجگری کا بیان
حیدرآباد ۔ 3 اکٹوبر (سیاست نیوز) بلارم آرمی ہتھیاروں کی چوری معاملہ میں کمشنر نے بلآخر خلاصہ کردیا ہے۔ کمشنر پولیس ملکاجگری کمشنریٹ سماتی نے واضح کردیا کہ آرمی ہتھیاروں کی چوری معاملہ کا دہشت گرد سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں ہر زاویہ سے تحقیقات کو انجام دیا گیا اور سات افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ آرمی ریجمنٹ سے سرقہ کئے گئے ہتھیاروں کو لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتیں انجام دینے کیلئے استعمال کیا جارہا تھا اور اسی منصوبہ کے تحت ہتھیاروں کا سرقہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ شیشا، ونود، پروین، نرنجن، ملکارجن، بیربل شاہ اور اوبدے کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شیشا، ونود اور پروین آرمی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ محترمہ سماتی نے بتایا کہ اس معاملہ کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ملزمین ان ہتھیاروں کے ذریعہ ڈرا دھمکا کر لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا منصوبہ رکھتے تھے۔ بینکس، زیورات کے دکانات میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار مچانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دولتمند افراد کو دھمکا کر جبراً وصولی کی سازش بھی تیار کی گئی تھی۔ کمشنر پولیس ملکاجگری نے بتایا کہ ان مسروقہ ہتھیاروں کی خریداری مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے افراد بیربل شاہ اور اوید نے ہتھیاروں کی خریداری کیلئے ان سے رابطہ کیا تھا۔ پستول کیلئے 3 لاکھ اور لانگ ویسپن کیلئے 5 لاکھ روپئے کی قیمت مقرر کرتے ہوئے معاہدہ طئے کیا گیا تھا۔ع