ڈاکٹر اسماء زہرہ کنوینر فیڈریشن آف مسلم ویمن آرگنائزیشن کا مذمتی بیان
حیدرآباد ۔ 20 اگست (پریس نوٹ) ڈاکٹر اسماء زہرہ کنوینر فیڈریشن آف مسلم ویمن آرگنائزیشنس نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ہمارے ملک میں بار بار خواتین و لڑکیوں پر طرح طرح کے مظالم اور ان پر عدالت کی جانب سے سخت سزاء سنائے جانے کے باوجود حکومت کی معاندانہ نفرت آمیز پالیسی کی وجہ سے مسلم خواتین و لڑکیوں کی عزت و آبرو کے ساتھ حکومتیں کھلواڑ کررہی ہیں۔ بار بار ہر چھوٹے بڑے مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے حق و انصاف کے منافی فیصلے ایک کے بعد ایک سامنے آرہے ہیں۔ بلقیس بانو کے ساتھ 2002ء کے فساد میں ہجومی عصمت ریزی کرنے وا لے خاطیوں و سزاء یافتہ مجرموں کو حکومت گجرات نے معافی کا اعلان کرکے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایسے وقت جبکہ صدرجمہوریہ کے جلیل القدر عہدہ پر ایک خاتون سرفراز ہوتی ہیں۔ عین ایسے وقت مسلم عورت جسے انصاف چاہئے تھا وہ انصاف سے محروم کردی جاتی ہے۔ کٹھوا میں جس 8 سالہ بچی کا زنا بالجبر اور قتل ہوا تھا، اس کے تمام مجرمین کو 2019ء میں سزاء ہوئی تھی، 2021ء میں ایک ایک کرکے ان سب کو بری کردیا گیا۔ اس طرح ذکیہ جعفری کو 67 افراد معہ احسان جعفری ایم پی کو 2002ء کے فسادات میں زندہ جلادینے کے خلاف سپریم کورٹ میں کوئی انصاف نہیں مل سکا بلکہ جن غیرمسلم سماجی جہدکاروں نے ذکیہ جعفری کی قانونی مدد کی تھی انہیں اور سابق ڈی جی پی کو لغو الزامات کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ چند شرپسندوں نے سلی ڈیل، بلی بائی ایپ بنا کر معروف مسلم جہدکار خواتین کو نشانہ بنا کر کھلے عام سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا تھا۔ کرناٹک میں کالجس میں برقعہ پر پابندی لگا کر مسلم طالبات کے تعلیمی مستقبل کو باضابطہ ختم کیا گیا ہے۔ محض امتحانی مراکز پر برقعہ پر پابندی کی وجہ سے 125000 طالبات سالانہ امتحانات لکھنے سے محروم رہ گئیں۔ ہم حکومت گجرات اور مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ گھناؤنے جرائم کرنے والوں کی سزا معاف کرنا شریف انسانی تہذیب و تمدن کے خلاف ہے۔ نربھیا ایکٹ میں مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ جڑچرلہ کے اجتماعی ریپ میں ملوث خاطیوں کو گولی مار دی گئی پھر صرف مسلم خواتین پر وحشیانہ بربریت و مظالم کے خلاف حکومت سزاء دینے سے کیوں گریز کرتے ہوئے سماج میں قاتلوں، زانیوں اور غنڈوں کو محض ایک مذہب کے ہونے پر انہیں سنسکاری بتانے کی بھونڈی کوشش کررہی ہے۔ ہندوستانی سماج ایسے جرائم اور مسلمان خواتین کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ٹارگٹ بنانے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ حکومت ہند ساری دنیا میں اپنا مقام کھودے گی۔ خواتین کے حقوق کے معاملے میں عالمی درجہ بندی میں پہلے ہمارا ہندوستان 135 ویں مقام سے بھی نیچے گر چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے اور انصاف کیلئے آواز ہر سطح پر بلند ہو۔