بکرے کے گوشت کی حلیم مہنگی ، روزہ کشائی کے بعد اڈلی اور دوسہ کا بھی استعمال
حیدرآباد۔7اپریل۔(سیاست نیوز) حلیم کی قیمتو ںمیں اضافہ کے بعد شہر میں بڑے کے گوشت سے تیار کی جانے والی حلیم کی مانگ میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور شہریوں کی جانب سے ماہ مقدس کے دوران مقوی غذاء کے طور پر استعمال کی جانے والی حلیم کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے بے تحاشہ اضافہ کو دیکھتے ہوئے کم اخراجات والے متبادل تلاش کئے جانے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں بڑے جانور کے گوشت کے استعمال سے تیار کی جانے والی حلیم کی فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے کیونکہ کفایتی دام میں وہ دستیاب ہو رہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے سرکردہ حلیم کے تیار کنندگان کی جانب سے بکرے کے گوشت کی حلیم کی قیمت مختلف رکھی گئی ہے اور اس مرتبہ ٹوئن سٹیز حلیم میکرس اسوسیشن کا اجلاس بھی منعقد نہیں ہوا جس کے سبب کہا جا رہاہے کہ حلیم کی قیمتوں میں یکسانیت نہیں ہے ۔ بکرے کے گوشت سے تیار کی جانے والی حلیم کی قیمتوں کا آغاز 200 روپئے سے ہے اور 250روپئے تک یہ حلیم فروخت کی جا رہی ہے جبکہ بڑے گوشت سے تیار کی جانے والی حلیم 80تا120 روپئے میں پلیٹ حاصل ہونے لگی ہے ۔ دونوں شہروں بالخصوص پرانے شہر کے علاوہ ٹولی چوکی ‘ لکڑی کا پل‘ پنجہ گٹہ اور دیگر علاقوں میں بڑے کے گوشت کی حلیم کی فروخت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور کئی علاقوں میں جہاں غیر مسلم حلیم شوق سے کھاتے ہیں وہ چکن حلیم پر اکتفاء کر رہے ہیں۔ حلیم کے سرکردہ تیار کنندگان کا کہناہے کہ وہ بھی کوئی زائد آمدنی کے حصول کے لئے اتنی زیادہ قیمتیں نہیں رکھے ہیں بلکہ وہ گرانی کو دیکھتے ہوئے مجبور ہیں اسی لئے ان کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ سرکردہ حلیم کے تیار کنندگان کی جانب سے اب کھل کر اس بات کا اعتراف کیا جا رہاہے کہ بڑے جانور کے گوشت سے تیار کی جانے والی حلیم کی فروخت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور دوسری جانب حلیم کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے سبب شہریوں کی جانب سے افطار کے فوری بعد حلیم کے بجائے اڈلی یا دوسہ پر اکتفاء کیا جارہا ہے اور اب شہر کے تجارتی علاقوں میں حلیم کے تیارکنندگان کیلئے اڈلی دوسہ کی بنڈیاں چیالنج ثابت ہونے لگی ہیں کیونکہ ٹھیلہ بنڈیوں پر فروخت کی جانے والی اڈلی ‘ دوسہ یا دیگر اشیاء کے لئے ٹھیلہ بنڈی رانوں کو کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی انہیں تشہیر کی ضرورت پڑرہی ہے ۔ اسی لئے ٹھیلہ بنڈی پر فروخت کی جانے والی اشیائے خورد و نوش کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ کفایت شعاری کے ذریعہ شہریوں کی جانب پیسوں کی بچت کی ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے ۔م