بی یو ایم ایس میں اہل امیدواروں کی دستیابی کے باوجود 30 تا 40 نشستیں مخلوعہ !

   

کے این آر یو ایچ ایس کی جانب سے اسٹرے ویکنسیز راونڈ منعقد کرنا ضروری
غیروں کے تعصب اور اپنوں کی مجرمانہ غفلت سے گذشتہ سال 19 نشستوں کا نقصان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : ریاست میں ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس کی کونسلنگ ختم ہوچکی ہے جب کہ آیوش کورسیس بی اے ایم ایس ( ایورویدیہ ) یوگا اینڈ نیچرو پیتھی ، بی یو ایم ایس ( یونانی ) ، سدھا سووارگیا اور بی ایچ ایم ایس ( ٹیومیوپتھی ) میں بھی تیسرے مرحلہ کی کونسلنگ ختم ہونے والی ہے ۔ ایسے میں اب یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج کی شناخت اس کی پہچان اور وہاں سے یونانی طریقہ طب کو ختم کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر بڑی ہوشیاری سے عمل ہورہا ہے اور اس عمل میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جو یونانی طریقہ طب کی روٹی کھاتے ہیں لیکن اس کے تحفظ اور بقاء کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے ۔ ایسے عناصر کو امام الہند بھارت رتن مولانا ابولکلام آزاد کے اس قول پر ضرور غور کرنا چاہیے جس میں ان کا کہنا تھا ’ اگر تم صرف اپنے لیے زندہ ہو تو اس کا مطلب یہی ہے کہ تم اپنی قوم کے لیے زندہ نعش ہو ‘ ۔ واضح رہے کہ آیوش میں خاص طور پر بی یو ایم ایس میں نیٹ میں کامیاب اہل امیدواروں کی موجودگی کے باوجود گذشتہ سال 19 نشستیں پر نہیں کی گئیں ۔ اس طرح یونانی طریقہ طب کو بہت بڑا نقصان ہوا ۔ اس پر ساری قوم اور قوم کے لیڈران بڑے آرام سے سوتے رہے حد تو یہ ہے کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود وہ خواب غفلت سے بیدا نہ ہوسکے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس سال گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج میں 30 تا 40 نشستوں پر داخلے نہ ہونے کے خدشات پائے جارہے ہیں اور 24 گھنٹوں میں یہ خدشات صد فیصد درست ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کالج انتظامیہ بشمول پرنسپل ، پروفیسروں سے لے کر آفس سپرنٹنڈنٹ کیا کررہے ہیں ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ غیر اردو داں امیدوار بی یو ایم ایس کورس کے لیے درخواست تو دے رہے ہیں KNRUHS انہیں مرحلہ 1 ، مرحلہ 2 اور مرحلہ 3 میں نشستیں بھی الاٹ کررہی ہے لیکن وہ داخلے نہیں لے رہے ہیں ۔ ایسے میں کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس ، پرنسپل گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج اور کمشنر آیوش ایسے طلبہ کے خلاف کیا کارروائی کررہے ہیں اور مخلوعہ نشستوں کو پر کرنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر جس طرح ایم بی بی ایس کی وہ نشستیں جو ایس سی ، ایس ٹی کے لیے محفوظ ہوتی ہیں امیدوار نہ ملنے پر عام زمرہ کے امیدواروں کو الاٹ کردی جاتی ہیں ۔ اسی طرح ریاست تلنگانہ میں پی ڈبلیو ڈی ( معذورین ) کے لیے 200 نشستیں محفوظ ہیں ۔ اس مرتبہ 37 معذورین نے ایم بی بی ایس میں داخلے حاصل کئے ۔ اس طرح جو 163 نشستیں مخلوعہ تھیں انہیں دیگر زمروں یا عام زمرہ میں تبدیل کر کے پر کردی گئیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ طب یونانی سے وابستہ اطباء وغیرہ کی جو تنظیمیں ہیں وہ صرف ایک دوسرے کو ایوارڈس دیتے ایک دوسرے کی تعریف و ستائش کرنے میں مصروف ہیں ۔ ایک دو کو چھوڑ کر تمام تنظیموں اور ان کے ذمہ داروں کو گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج ، طبی دواخانہ کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ انہیں یہ بھی اندازہ نہیں کہ پچھلے سال 19 اب کی مرتبہ 30-40 نشستیں خالی جارہی ہیں اور آئندہ سال ہماری اپنی غفلت کے باعث 50-60 نشستیں خالی جائیں گی اور ہم خود طب یونانی کی بربادی کا جشن منائیں گے ۔ اس معاملہ میں KNRUHS کا کردار بھی بڑا عجیب و غریب ہے اس ضمن میں ریاستی وزیر صحت دامودر راج نرسمہا کو بھی آگے آنا چاہئے ۔ KNRUHS کو چاہئے کہ وہ ایم سی سی کے شیڈول کے مطابق میڈیکل کونسلنگ ختم ہونے سے پہلے ہی Stray Vacancies Round منعقد کرے تاکہ اہل امیدواروں کو بی یو ایم ایس میں داخلے حاصل ہوسکیں ۔۔