تاریخی مکہ مسجد میں مستقل موذن کا عدم تقرر

   

محمد حنیف کی خدمات میں توسیع میں محکمہ اقلیتی بہبود سے رکاوٹیں
حیدرآباد۔18۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد میں خدمات کی انجام دہی کے لئے مستقل مؤذن کے عدم تقرر کی بناء پر مصلیان مسجد کو ہی تاریخی مکہ مسجد میں اذان دینی پڑرہی ہے۔ جناب محمد حنیف جو کہ انتہائی خوشالحانی کے ساتھ اذان دیا کرتے تھے ان کی وظیفہ حسن پر سبکدوشی کے بعد سے ہی مؤذن مکہ مسجد کے عہدہ پر کوئی باضابطہ تقررعمل میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی جناب محمد حنیف کی خدمات میں توسیع کے اقدامات کئے گئے حالانکہ سیاسی قائدین کے علاوہ سرکردہ مسلم قائدین و شخصیات نے جناب محمد حنیف کی 35سالہ خدمات اور ان کی مسحور کن اذان کی بنیاد پر ان کی خدمات میں توسیع فراہم کرنے کے لئے نمائندگی کی تھی لیکن اس کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تاریخی مکہ مسجد کے مؤذن کی فائل کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے آگے بڑھنے سے روکا جار ہاہے ۔ذرائع کے مطابق تاریخی مکہ مسجد میں اذان کے مسائل کے سلسلہ میں تلنگانہ ڈائریکٹوریٹ کمشنریٹ برائے اقلیتی بہبود کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ وہ مکہ مسجد کے مؤذن کی مخلوعہ جائیداد کے سلسلہ میں محکمہ کے اعلیٰ ذمہ داروں کو رپورٹ پیش کرچکے ہیں لیکن محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کی پیشرفت نہیں کی جس کے نتیجہ میں مکہ مسجد میں مؤذن کے تقر ر یا جناب محمد حنیف کی خدمات میں توسیع کا فیصلہ زیر التواء ہے۔ تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وظیفہ حسن پر سبکدوش ہونے والوں کی خدمات میں توسیع کے معاملہ میں جو نئے قوانین کا اطلاق کیا جارہا ہے اس کے نتیجہ میں جناب محمد حنیف کی خدمات میں توسیع میں تاخیر ہورہی ہے ۔ جو عہدیدار مکہ مسجد کے مؤذن کی خدمات میں توسیع کے لئے ان قوانین کے حوالہ دے رہے ہیں وہ ’ٹمریز‘ میں مؤظف ملازمین کے تقرر کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں اور مکہ مسجد کے مؤذن کی خدمات میں توسیع کے لئے کئی ماہ سے فائیل ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل پر گھوم رہی ہے۔3/m/b