ترقی کیلئے استعفیٰ تو بی جے پی کے 4 ارکان پارلیمنٹ مستعفی ہوجائیں

   

28 اسمبلی حلقوں کی ترقی ،مقامی منتخب نمائندوں کو خریدنے کا اے ریونت ریڈی کا الزام

حیدرآباد ۔ 20 اگست (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر بی جے پی کو ضمنی انتخابات سے ہی ترقی ہونے کا یقین ہے تو اس کے چاروں ارکان پارلیمنٹ کو استعفیٰ دینے کا چیلنج کیا اور 28 اسمبلی حلقوں میں ترقی ہونے کا دعویٰ کیا۔ چوٹ اپل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے ریونت ریڈی نے کہا کہ صرف حلقہ کی ترقی کیلئے راجگوپال ریڈی نے استعفیٰ دیا ہے تو وہ ضمنی انتخاب میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کریں وہ بی فارم دینے کیلئے تیار ہے۔ صرف ترقی کیلئے بی جے پی استعفیٰ دینے کا دعویٰ کررہی ہے تو تلنگانہ میں بی جے پی کے چار ارکان پارلیمنٹ ہے۔ اگر وہ استعفیٰ دیتے ہیں تو 28 اسمبلی حلقوں کی ترقی ہوگی۔ لہٰذا وہ بی جے پی کے چار ارکان پارلیمنٹ کو استعفیٰ دینے کا چیلنج کررہے ہیں۔ اسمبلی حلقہ منگوڑ کے مقامی عوامی منتخب نمائندوں کو خریدنے کا بی جے پی اور ٹی آر ایس پر الزام عائد کیا۔ فروخت ہوجانے والے مقامی قائدین سے بھی مستعفی ہوجانے کا دباؤ بنانے کا مقامی عوام کو مشورہ دیا۔ اپنے آپ کو فروخت کرتے ہوئے جو بھاری رقم حاصل کی گئی ہے، کیا وہ گرام پنچایتوں کی ترقی کیلئے گرام پنچایتوں کے بنک کھاتوں میں جمع کریں گے استفسار کیا۔ اے ریونت ریڈی نے ٹی آر ایس اور بی جے پی پر جمہوریت کا خون کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اسٹار کیمپنیر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے ساتھ مل کر اسمبلی حلقہ منگوڑ کی انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا۔ پارٹی تبدیل کرنے والوں کی جانب سے ان پر کئے گئے تنقیدوں کو مسترد کردیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی ان کی جاگیر نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی میں کئی سینئر قائدین موجود ہیں۔ تمام قائدین کی اتفاق رائے سے فیصلے لئے جائیں گے۔ن