نئی دہلی: تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اور حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق چیرمین محبوب علی قیصر نے کہاکہ پوری دنیا کا جائز ہ لیں تو آپ پائیں گے کہ جس قوم نے تعلیم کے میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہی قوم ترقی یافتہ کہلائی۔ یہ بات انہوں نے شاہین باغ میں عائشہ ایجوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے تعاون سے رحمان 30کی شاخ کے افتتاح کے موقع پر اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں تعلیم کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ پہلی نازل ہونے والی وحی’ اقراء‘ سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اسلام میں سب سے زیادہ زور تعلیم پر دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عرب قوم جو دایک معمولی سی بات پر برسوں لڑتی رہتی تھی اسلام کی آمد کے بعد مہذب بن گئی اور تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار کیا جس سے ایک بڑے خطے پر وہ حکمراں بن گئی اور انہوں نے سائنس، جغرافیہ،الجبرا اور دیگر تعلیمی میدان میں اپنے جھنڈے گاڑے جسے انگریزوں نے حاصل کیا اور وہ دنیامیں ترقی یافتہ قوم ہے اور تمام شعبوں پر ان کا دبدبہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی تہذیب پانچ ہزار سال پرانی ہے ، یہاں موہن جوداڑو، ہڑپا تہذیبیں تھیں، ٹکسلا، نالندہ یونیورسٹی تھی۔ انہوں نے کہاکہ جس ملک کے بچے پڑھیں گے وہی ملک ترقی یافتہ ہوگا۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کو ہندوستان کی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیم کے لئے حکومت کو نجی اداروں کی شراکت سے زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔