تلبیہ کی گونج میں مناسک حج کا آج آغاز ،عازمین کی منیٰ آمد

,

   

منگل 9 ذوالحجہ کو وقوف عرفات ، چہارشنبہ کو عیدالاضحی، حاجیوں کی سہولت کیلئے حکومت کے مؤثر انتظامات

ریاض ۔24؍مئی ( ایجنسیز ) سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز پیر 8 ذی الحجہ سے ہوگا۔ عازمین کو منیٰ منتقل کرنے کا آپریشن جاری ہے ۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق حج 2026 کی تیاریاں مکمل ہیں۔ منگل 9 ذوالحجہ کو حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ہوگا۔ 9 ذوالحجہ کو ظہر سے پہلے تمام عازمین کو بسوں، مشاعر ٹرین سے میدانِ عرفات پہنچایا جائے گا۔ 9 ذو الحجہ کو حجاج کرام خطبہ حج کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں اپنے خیموں میں ادا کریں گے اور سورج غروب ہونے تک دعاؤں، تسبیحات اور مناجات میں مشغول رہیں گے۔ وقوف عرفات کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر بسوں اور مشاعر ٹرین کے ذریعہ مزدلفہ پہنچیں گے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نماز ادا کریں گے اور رمی کیلئے 70 کنکریاں چنیں گے۔ 10 ذوالحجہ کی صبح وقوف مزدلفہ کے بعد حجاج کرام بڑے شیطان کی رمی (کنکر ماریں گے) کریں گے اور قربانی کے بعد حجاج کرام حلق یا قصر کرتے ہی احرام سے باہر آ جائیں گے۔ 10 ذو الحجہ کو عید ہوگی۔ 10تا 12 ذو الحجہ کے درمیان کسی بھی وقت حج کا تیسرا فرض طواف زیارت اور واجب سعی کریں گے۔ 11 اور 12 ذو الحجہ کو منیٰ میں تینوں شیطانوں کی رمی کریں گے اور اپنی رہائش گاہ پر واپس جائیں گے۔ سعودی محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ (جوازات) میں حج ٹاسک فورس کے کمانڈر میجر جنرل صالح المربع کے مطابق بیرون مملکت سے اب تک تقریباً16 لاکھ عازمین ارضِ مقدس پہنچ چکے ہیں۔ حج سیکیورٹی فورس کی جانب سے مکہ مکرمہ میں امورحج کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل المربع نے بتا یا کہ فضائی ذریعہ سے آنے والے عازمین کی تعداد 14 لاکھ 71 ہزار، جبکہ بری راستوں سے 45 ہزار سے زائد اور سمندری ذریعہ سے آنے والوں کی تعداد 6 ہزار400 رہی۔ کمانڈر حج ٹاسک فورس نے مزید کہا کہ جدید ترین تکنیکی آلات کے استعمال سے عازمین کو بہتر اور آسان سفری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جس سے نہ صرف وقت کی بچت بلکہ معیار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔سعودی عرب نے حج 2026 کیلئے سکیورٹی کے غیرمعمولی اور جامع انتظامات مکمل کرتے ہوئے عازمینِ حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے، مقدس مقامات کے گرد جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے مربوط نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید اینٹی ایئرکرافٹ گنز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور جدید ریڈار نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی فوری نشاندہی اور بروقت ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔ حج کے ایام میں فضائی اور زمینی نگرانی مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ حکام کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کیلئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی اقدامات کو فعال بنایا گیا ہے، یہ نظام کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔مناسک حج کے دوران مکہ مکرمہ میں سخت گرمی کا امکان ہے جبکہ 25 مئی تک درجہ حرارت 47 ڈگری تک جاسکتا ہے۔پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً 30 فیصد عازمین روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو کے تحت جدید اور تیز رفتار امیگریشن نظام کے ذریعہ سعودی عرب پہنچے، جس سے آمدورفت کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔سعودی عرب کے محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق مدینہ منورہ میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
سعودی حکام کے مطابق حج کے دوران رہائش، نقل و حمل، سکیورٹی اور نگرانی کے تمام مراحل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ لاکھوں عازمینِ حج کو محفوظ، منظم اور پْرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے اور عبادات کے دوران کسی بھی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔

مکہ سے مدینہ کا سفر صرف 2 گھنٹے 15 منٹ: سعودی ریلوے
جدہ ،24 مئی (یو این آئی ) سعودی ریلوے نے حج 1447 ہجری کے موقع پر حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کے لیے خصوصی آپریشنل پلان جاری کر دیا ہے ۔ حج سیزن کے دوران حرمین ٹرین میں 22 لاکھ سے زائد نشستیں فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے ، جبکہ ہجوم کے اوقات میں 140سے زائد یومیہ ٹرپس چلائی جا رہی ہیں۔ سعودی ریلوے کے مطابق حج آپریشن پلان کے آغاز سے اب تک 8لاکھ سے زائد مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے ۔ حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے دنیا کی تیز ترین الیکٹرک ٹرینوں میں شامل ہے جس کی رفتار 300کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے ۔ 453 کلومیٹر طویل ریلوے لائن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو آپس میں ملاتی ہے ۔ حرمین ٹرین مکہ، جدہ، کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ، کنگ عبداللہ اکنامک سٹی اور مدینہ اسٹیشنز کو آپس میں جوڑتی ہے ۔ مکہ سے مدینہ کا سفر صرف 2 گھنٹے 15 منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے ، جبکہ مکہ سے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا سفر تقریباً 50منٹ میں طے کیا جا رہا ہے ۔ مدینہ سے کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ تک سفر کا دورانیہ ایک گھنٹہ 45منٹ مقرر کیا گیا ہے ۔ کنگ عبدالعزیز ایئرپورٹ اسٹیشن حج سیزن میں اہم رابطہ مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ، جہاں جہاز سے ٹرین تک براہِ راست رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔
ایئرپورٹ سے منسلک حرمین ریلوے اسٹیشن دنیا کے بڑے ریلوے اسٹیشنز میں شمار ہوتا ہے ، جب کہ حرمین ٹرین اسٹیشن ٹرمینل ون سے منسلک ہونے کے باعث فضائی اور ریل سفر میں بہترین ہم آہنگی قائم کی گئی ہے ۔ سعودی ریلوے نے حج سیزن کے لیے تمام اسٹیشنز اور کنٹرول سینٹرز میں ہائی الرٹ نافذ کر رکھا ہے ۔ حرمین ریلوے اسٹیشنز پر ہجوم کے بہتر انتظام اور مسافروں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جب کہ سعودی ریلوے کی آپریشنل اور فیلڈ ٹیمیں چوبیس گھنٹے خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں۔