تلنگانہ تحریک کے جہدکاروں کے تعلیمی اور معاشی استحکام پر حکومت کی توجہ

   

ریاستی کمیٹی کی کاکتیہ یونیورسٹی طلبہ نمائندوں سے ملاقات، وسیع تر مشاورت کے بعد چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی جائیگی
حیدرآباد 7 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ تحریک کے جہدکاروں کے انتخاب کے لئے قائم کردہ کمیٹی نے کہا ہے کہ تلنگانہ تحریک سے وابستہ افراد کی بھلائی کے لئے جامع منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ جہدکاروں اور اُن کے افراد خاندان کے سماجی تحفظ، بھلائی کے لئے حکومت کی جانب سے قائم کردہ ریاستی سطح کی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ یادگار شہیدان تلنگانہ کے احاطہ میں موجود کمیٹی کے دفتر میں آج کاکتیہ یونیورسٹی کے طلبہ نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا۔ کمیٹی نے عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ جے اے سی کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت مکمل کرلی ہے۔ اجلاس میں وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر، پروفیسر کودنڈا رام، ادنکی دیاکر، ایس راملو نائک، شریمتی شوبھن ریڈی نے شرکت کی۔ کمیٹی کے صدرنشین سابق رکن راجیہ سبھا کے کیشو راؤ ہیں۔ اجلاس میں تلنگانہ تحریک میں شامل جہدکاروں اور اُن کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ تلنگانہ کے قیام کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے والے نوجوانوں کے افراد خاندان کی بھلائی کے سلسلہ میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ کاکتیہ یونیورسٹی کے طلبہ قائدین نے مشورہ دیا کہ جہدکاروں کو محض شناختی کارڈ کی اجرائی کے بجائے اُن کے افراد خاندان کو روزگار، بہتر تعلیم اور صحت کی سہولتیں، امکنہ اراضی، پنشن اور مالی امداد جیسے اُمور کو فلاحی منصوبہ میں شامل کیا جائے۔ شہیدان تلنگانہ کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کے افراد خاندان کی مؤثر انداز میں مدد کی تجویز پیش کی گئی۔ ریاستی وزیر پونم پربھاکر نے کہاکہ تلنگانہ تحریک میں کاکتیہ اور عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کا رول تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت کا مقصد صرف جہدکاروں کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ اُنھیں سماجی، معاشی اور تعلیمی سطح پر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ مشاورت کے عمل کی تکمیل کے بعد کمیٹی سفارشات کے ساتھ اپنی رپورٹ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو پیش کرے گی۔V/1/a/b
کمیٹی سے ملاقات کرنے والوں میں شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان اور مختلف تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔V/1