فیس ری ایمبرسمنٹ بقایاجات فوری جاری کرے اورسہولتوں کی بنیاد پر اسکولس کو 4 زمروں میں تقسیم کیا جائے
حیدرآباد۔ 20 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ اسوسی ایشن (TRSMA) نے قانون حق تعلیم کے نفاذ پر ایک سنسنی خیز بیان جاری کیا ہے۔ حکومت پر واضح کردیا ہے کہ حق تعلیم ایکٹ زیرالتواء واجبات کی ادائیگی نہ کرنے کے سبب ہم 25% مفت نشستیں فراہم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ خانگی اسکولس مفت تعلیم دینے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت نے فیس اسکول مینجمنٹ کو فراہم کرنے کے بجائے راست طور پر والدین کے بینک اکاؤنٹس میں ڈالنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی بچوں کو کوئی بھی اسکول میں پڑھانے کا مشورہ دیا ہے، جس سے خانگی اسکولوں کو بہت نقصان ہوگا۔ تلنگانہ پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ اسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیس پر نظرثانی کرنے کیلئے خانگی اسکولوں کو بنیادی سہولتوں کے اعتبار سے ABCD میں تقسیم کرے۔ اسکولس میں بنیادی سہولتیں، انفراسٹرکچر،ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف و دیگر سہولتوں کو مدنظر رکھ کر فیس تعین کرے۔ تلنگانہ پرائیویٹ اَن ایڈیڈ اسکولس فیس ریگولیٹری اینڈ مانیٹرنگ کمیشن کے ڈرافٹ بِل 2025ء میں تجویز کردہ فیس پر RTE کی عمل آوری کیلئے تبادلہ خیال میں TRSMA کے مطالبات پر غور کریں۔ اس بل کے تحت پرائیویٹ اسکولس میں 25% نشستوں پر ریزرویشن کی نگرانی کی جائے۔ فیس میں اضافہ کو کنزیومر پرائس انڈیکس سے جوڑنے کا مشورہ دیا۔ تلنگانہ پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ اسوسی ایشن ، بل کی چند تجاویز پر اپنے اعتراضات پیش کئے اور کہا کہ پیرنٹ ۔ ٹیچر کمیٹیوں کے بجائے اسکول گورننگ باڈی تشکیل دی جائے۔ اسکول کو چار زمروں میں تقسیم کرنے کے ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن میں غریب بچوں کیلئے 25% جو نشستیں مختص ہیں، ان کی فیس ری ایمبرسمنٹ بقایاجات فوری جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ 2