تلنگانہ میں تلگودیشم اور بی جے پی کے درمیان سیاسی اتحاد کی قیاس آرائیاں

   


بی جے پی کی ڈنر ڈپلومیسی، اے پی میں وائی ایس آر کانگریس کی گرفت کمزور
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔23۔اگسٹ۔ تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کو دوبارہ استحکام حاصل ہوگا!ریاست تلنگانہ کی سیاست میں 2014کے بعد سے تلگو دیشم پارٹی کا وجود برائے نام رہ گیا تھا لیکن اب تلگو دیشم پارٹی کو تلنگانہ میں دوبارہ زندگی دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اورکہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی تلنگانہ میں موجود آندھرائی رائے دہندوں کو قریب کرنے کے علاوہ تلگو دیشم پارٹی کے بنیادی سطح کے کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے لئے تلگودیشم پارٹی کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اپنے دورۂ حیدرآباد کے دوران صدرتلگودیشم مسٹر این چندرابابونائیڈو ‘ ننداموری بالا کرشنا کے علاوہ ٹالی ووڈ سوپر اسٹار جونیئر این ٹی آر سے رامو جی فلم سٹی میں ملاقات کرنے والے ہیں اور اس ملاقات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی اور تلگو دیشم کے تلنگانہ میں اتحاد کے متعلق بات چیت کے قیاس کئے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ امیت شاہ نے جونیئر این ٹی آر کی فلم RRR کے مشاہدہ کے بعد انہیں اپنے دورۂ حیدرآباد کے دوران عشائیہ پر مدعو کیا ہے اور راموجی فلم سٹی میں ترتیب دیئے گئے اس عشائیہ کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ امیت شاہ جونیئر این ٹی آر کو ان کی فلم کی کامیابی پر شخصی طور پر ملاقات کرتے ہوئے مبارکباد دینے کے متمنی ہیں
اسی لئے وہ ان سے ملاقات کررہے ہیں لیکن اس عشائیہ کو بھارتیہ جنتاپارٹی کی ’ڈنر ڈپلومیسی‘ بھی قرار دیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ شہر کے نواحی علاقہ میں موجود راموجی فلم سٹی میں منعقد کئے جانے والے اس ڈنر میں جونیئر این ٹی آر کے علاوہ آنجہانی این ٹی راما راؤ کے افراد خاندان بھی موجود رہیں گے اور سابق چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرابابو نائیڈو کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق امیت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں تلگو دیشم کو دوبارہ استحکام کے لئے تلگو دیشم پارٹی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے تلگو دیشم پارٹی کے نظریاتی رائے دہندوں اور آندھرائی رائے دہندوں کو اپنا حامی بنانے کی کوشش کر سکتی ہے اور اس مقصد کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جونیئر این ٹی آر کو سرگرم سیاست میں شامل کرنے اور تلگو دیشم پارٹی کے لئے تلنگانہ کے چہرہ کے طور پر پیش کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ بی جے پی اور وائی ایس آر کانگریس کے درمیان آندھراپردیش میں موجود اتحاد کے متعلق جو قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں ان کے مطابق پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں وائی ایس آرسی پی کی گرفت کمزور ہونے لگی ہے اور آندھراپردیش کے عوام تلگو دیشم کو متبادل کے طور پر قبول کرنے لگے ہیںاس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ آزادی کے امرت مہوتسو سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ 2014میں علحدہ ریاست تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات میں تلگو دیشم پارٹی نے 15نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور 2014میں متحدہ ریاست میں منعقد ہونے والے آخری انتخابات میں تلگو دیشم پارٹی نے مجموعی اعتبار سے 32.53 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ تلنگانہ کے حلقہ جات اسمبلی میں تلگو دیشم پارٹی کو 14.55 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ 2018 تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں تلگو دیشم پارٹی نے 7لاکھ 25ہزار ووٹ حاصل کرنے کے باوجود 13نشستوں پر تلنگانہ میں کامیابی حاصل کی تھی اور تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کا ووٹ شئیر 3.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے 14 لاکھ 50ہزار ووٹ حاصل کرتے ہوئے محض ایک نشست پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ بی جے پی کو جو ووٹ شئیر حاصل ہوا تھا وہ 7.1 فیصد تھا ۔ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں تلگو دیشم کے نظریاتی ووٹوں کو منقسم ہونے سے بچانے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں استعمال اور متحدہ کوشش کے لئے یہ ڈنر ڈپلومیسی اختیار کی جا رہی ہے۔بی جے پی اور تلگو دیشم کے مابین اتحاد کے سلسلہ میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی قیاس نہیں کیا گیا تھا اور اب تلنگانہ میں تلگو دیشم اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کی قیاس آرائیوں کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین میں ہلچل پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر جونیئر این ٹی آر تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی کے چہرہ کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں یا ان کی خدمات بی جے پی اور تلگو دیشم اپنی انتخابی مہم کے لئے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کانگریس اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کو نئی حکمت عملی اختیار کرنی پڑسکتی ہے کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت نے یہ خیال نہیں کیا تھا کہ تلنگانہ میںتلگو دیشم پارٹی کو دوبارہ استحکام حاصل ہوسکتا ہے یا تلگو دیشم پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان اتحاد کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی اور تلگو دیشم کے درمیان اتحاد کی صورت میں تلنگانہ میں نہ صرف بی جے پی بلکہ اس کا فائدہ تلگو دیشم پارٹی کو بھی ہوسکتا ہے ۔دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کے متعلق امیت شاہ کی ڈنر ڈپلومیسی کے نتائج پر انحصار ہے اور اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوجائے گا۔م