جنوبی لبنان میں حزب اللہ کارکن کو نشانہ بنایا گیا : اسرائیل

   

بیروت: اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعرات کے روز بمباری کر کے حزب اللہ کے ایک کارندے کو نشانہ بنایا ہے۔ جنوبی لبنان میں یہ تازہ ترین اسرائیلی بمباری ہے۔ اسرائیلی فوجی بیان کے مطابق اسرائیل کی اس بمباری سے کچھ ہی پہلے اسرائیلی ایئر فورس کی طرف سے حزب اللہ کے ایک کارندے کے خلاف الما الشاب میں کارروائی کی گئی۔لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘ این این اے ‘ کے مطابق اسرائیل نے یہ بمباری ڈرون طیارے کے ذریعے کی ہے اور اس سے ایک فوجی زخمی ہوا ہے۔ ڈرون حملے کا ہدف ایک کار کو نشانہ بنانے کیلئے تھا۔ یہ واقعہ سرحدی گاؤں میں پیش آیا ہے۔رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے بنت جبیل میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے کا کار ہدف تھی۔ جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔اس سے قبل منگل کے روز اسرائیلی فوج کی طرف سے بیروت پر بمباری کی گئی جس میں حزب اللہ کا وہ ذمہ دار نشانہ تھا جو فلسطین سے متعلق امور کو دیکھنے کا ذمہ دار تھا۔منگل کے روز بیروت میں کیا جانے والا یہ فضائی حملہ ماہ نومبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کی گئی بمباری کے حوالے سے ایک بڑا واقعہ تھا۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق اس بمباری کے نتیجے میں ایک عورت سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔حزب اللہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے ‘ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے فلسطین سے متعلق امور کے نائب سربراہ حسن بدایر جاں بحق ہوئے ہیں۔دریں اثنا حزب اللہ کے بیروت میں مضبوط گڑھ میں جمعہ کے روز ایک حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ ایک راکٹ حملے کے جواب میں بتایا گیا ہے۔