جموں و کشمیر کے راجور ی میں فائرنگ جاری ، متاثرہ علاقوں کی ناکہ بندی
راجوری: جموں و کشمیر کے راجوری کے باجی مال علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم جاری ہے جس میں فوج کے دو افسر اور ایک جوان شہید ہو گئے ہیں جبکہ اس انکاؤنٹر میں زخمی ہونے والے دو فوجیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ اسے ادھم پور کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ شہید اہلکار کی میت کو جنگل سے باہر لایا گیا ہے۔ جموں کے آئی جی آنند جین نے بتایا کہ راجوری کے کالاکوٹ علاقے میں دھرمسال تھانے کے سولکی گاؤں کے باجی مال علاقے میں کم از کم دو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ خاص اطلاع پر اس علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی گئی تھی۔ اس تصادم میں دو کیپٹن اور ایک سپاہی کے شہید ہونے کے بعد گاؤں میں سوگ کا ماحول ہے اور فوج نے جنگل کے اس علاقے کو چاروں طرف سے گھیرلیا ہے جہاں سے فائرنگ ہو رہی ہے۔ جیش اور پی اے ایف ایف کے کچھ الگ الگ گروپ ہیں جنہیں باجی مال علاقے کے قریب گلاب گڑھ کے جنگلاتی علاقوں میں گھیر لیا گیا ہے۔ یہ ایک پرانا گروپ ہے جو ابتدائی طور پر 5 اکتوبر کو بھی دیکھا گیا تھا جس کے بعد ابتدائی فائرنگ ہوئی تھی جس کے بعد آپریشن جاری ہے۔ فوج اور پولیس اہلکار موقع پر موجود ہیں۔ علاقے کو گھیرے میں لینے کیلئے کشمیر پولیس اور فوج کے بہت سے جوان تعینات ہیں۔ انہوں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
یہ جنگلاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کے ٹھکانے تلاش کرنے اور ان تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم ان کے ٹھکانے جاننے کے لیے دوسرے طریقے بھی اپنائے گئے ہیں۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ جنگل میں دو سے تین دہشت گرد موجود ہیں جو ایک مقامی باشندے کے گھر آئے اور وہاں کھانا کھایا۔ گزشتہ 4 دنوں سے فوج اور پولیس علاقے کی چھان بین میں مصروف تھی۔ اس کے بعد فوج اور پولیس نے منگل کو محاصرہ کیا اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔ چہارشنبہ کو صبح سے یہاں انکاؤنٹر جاری ہے۔