یروشلم ۔ یکم ؍ اگست (ایجنسیز) غزہ میں حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کے بعد سامنے آنے والے مجوزہ معاہدہ نے اسرائیل میں سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ معاہدہ میں اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء اور اقتدار مرحلہ وار ایک فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اس معاہدہ سے ’بہت خوش‘ ہے تاہم اسرائیلی حکومت نے تاحال باضابطہ مؤقف نہیں دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ حماس کے ’حقیقی طور پر غیر مسلح‘ ہونے سے قبل اسرائیلی فوج اپنی موجودہ پوزیشنز سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں کئی سیاست دان اور عوامی حلقہ غزہ سے انخلاء کے سخت مخالف ہیں، اکتوبر 2023ء کے حملے کے بعد اسرائیلی معاشرے میں سخت گیر مؤقف مزید مضبوط ہوا ہے جبکہ مختلف سرویز کے مطابق بڑی تعداد میں اسرائیلی غزہ کے فلسطینیوں کے انخلاء کی حمایت کرتی ہے۔
حماس کی غیر مسلح ہونے پر آمادگی کے
چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی حملے، 2 فلسطینی شہید
یروشلم ۔ یکم ؍ اگست (ایجنسیز) غزہ امن منصوبہ کے تحت حماس کی غیر مسلح ہونے پر آمادگی کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کئے، جس کے نتیجے میں 2 فلسطینی شہید ہو گئے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وسطی غزہ کی صلاح الدین اسٹریٹ اور صابرہ محلے پر اسرائیلی حملوں میں 2 فلسطینی شہید ہو گئے۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق دیر البلح میں الاقصیٰ اسپتال کے قریب ایک عمارت پر حملے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق بے گھر فلسطینیوں کے متعدد خیمے متاثر، خان یونس کے مشرقی علاقوں پر اسرائیلی توپ خانہ سے گولہ باری، جبکہ شمالی غزہ میں رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں متعدد فلسطینی زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج اور قابضین کے حملیجاری ہیں، فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق المغیر گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں نے فائرنگ کر کے 10 سالہ فلسطینی بچے کو زخمی کر دیا، جبکہ نابلس کے قریب متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔