20اگست کو چیف منسٹر ہیمنت سورین کے مکان کے گھیراؤ کا اعلان ، احتجاج جاری
رانچی۔16اگست ( ایجنسیز)رانچی میں جے پی ایس سی امتحان کے پیپر لیک ہونے کے خلاف احتجاج 23 ویں دن میں داخل ہوگیا، مظاہرین نے اتوار کواپنی تحریک کے فریم ورک میں تبدیلی کا اعلان کیا اور اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ احتجاجی طلباء نے 18اگست تک ان کے مطالبات کی یکسوئی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے جھارکھنڈ حکومت کو الٹی میٹم جاری کیا اور کہا کہان کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو طلباء 20 اگست کو چیف منسٹر ہیمنت سورین کے گھر تک مارچ کرنے کریںگے۔طلباء نے پہلی بار باضابطہ طور پر اعلان بھی کیا کہ اگر حکومت ان کے مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی تو وہ وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے اتوار کی شام جھارکھنڈ کے تمام 24 اضلاع میں سورین، کانگریس لیڈر راہول گاندھی اور حکمران اتحاد سے وابستہ دیگر قائدین کے پتلے جلانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔یہ اعلان طلباء تحریک میں ایک اہم موڑ کی علامت سمجھا جارہا ہے جو 10 اگست کو جھارکھنڈ اسمبلی کی طرف مارچ کے بعد سے شدت اختیار کر گیا ہے جب مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور بعد میں نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔جے پی ایس سی۔جے ایس ایس سی ریفارم منچ کے ترجمان پیوش سنگھ نے کہا کہ طلبہ کے چار بنیادی مطالبات ہیں ان میں جے ایس ایس سی۔سی جی ایل (جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن۔کمبائنڈ گریجویٹ لیول) کے امتحانات کی منسوخی، گیارہویں سے تیرہویں جے پی ایس سی کے امتحانات کی منسوخی، ایجنسی کے ذریعے تمام امتحانات کا انعقاد اور ٹی ڈی کے ذریعے امتحانات کو منسلک کرنا شامل ہیں۔ دوسری طرف طلباء کی بھوک ہڑتال بھی جاری ہے جن کی صحت کو لیکر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن وہ ہاسپٹل جانے سے بھی انکار کررہے ہیں ۔