جے رام رمیش نے مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے

   

نئی دہلی، 13 ستمبر (یو این آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبئہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد حکومت کی جانب سے سرحدی تجاوزات سے نمٹنے ، آپریشن سندور کے تناظر میں چین کے مبینہ کردار اور بیجنگ پر بھارت کے بڑھتے ہوئے معاشی انحصار کے حوالے سے سوالات اٹھائے ۔ رمیش نے کہا کہ مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات ختم ہو چکی ہے ، لیکن بھارت کی چین پالیسی سے متعلق کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔رمیش نے لکھاکہ ”اب جبکہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ختم ہو چکی ہے ۔ مودی کے سامنے چار ایسے سوالات ہیں جن کے جواب بھارت مسلسل تلاش کر رہا ہے ۔”انہوں نے جن معاملات کو اٹھایا ان میں سرحدی تجاوزات کے حوالے سے بھارت کے موقف میں مبینہ کمزوری، آپریشن سندور کے تناظر میں چین کے کردار اور بیجنگ پر ”خطرناک حد تک معاشی انحصار” شامل ہیں۔رمیش نے سوال کیاکہ ”انہوں نے سرحدی تجاوزات اور آپریشن سندور میں چین کے کردار کے حوالے سے ہمارے موقف کو کیوں کمزور کیا، جبکہ بیجنگ پر خطرناک حد تک معاشی انحصار کو بڑھنے دیا جا رہا ہے ؟”ان کے یہ تبصرے نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئے ۔
اس ملاقات پر بھارت اور چین کی سرحد سے متعلق مسلسل خدشات اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے پس منظر میں گہری نظر رکھی گئی۔2020 میں مشرقی لداخ میں فوجی تصادم کے بعد سے بھارت اور چین کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ اگرچہ کئی تنازعی مقامات پر فوجی انخلا عمل میں آ چکا ہے ، تاہم دونوں ممالک لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ اب بھی خاطر خواہ فوجی تعیناتی اور بنیادی ڈھانچہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔