حالت نشہ میں گاڑیاں چلانے پر 13 ہزار 933 مقدمات

   

824 ڈرائیورس کو جیل کی سزاء، لائسنس کی منسوخی اور جرمانے

حیدرآباد ۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) حیدرآباد ٹریفک پولیس نے 24 اگست تا 21نومبر کے درمیان حالت نشہ میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف خصوصی مہم چلاتے ہوئے 13,933 مقدمات درج کرتے ہوئے 2,87,20,600 روپئے جرمانہ عائد کیا۔ تفصیلات کے مطابق حالت نشہ میں گاڑی چلانے والوں کے خلاف خصوصی مہم کے دوران پکڑے گئے ڈرائیورس میں 824 ڈرائیورس کو ایک تا 10 دن تک جیل کی سزاء سنائی گئی۔ 227 ڈرائیورس کو دو دن مکمل سماجی خدمت کی سزاء عائد کی گئی۔ مجسٹریٹ کے احکامات پر آر ٹی او نے 99 ڈرائیونگ لائسنس کو دو سے چھ ماہ تک معطل کردیئے۔ تین ماہ کی مدت میں 13,188 چارج شیٹ داخل کئے گئے۔ اس سال جملہ 52.080حالت نشہ میں گاڑی چلانے والے ڈرائیورس کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس کی جانب سے 9 نومبر کو حالت نشہ میں گاڑی چلانے والے 327 ڈرائیورس کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف موٹروہیکل ایکٹ کی دفعہ 185 کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ 4 اکٹوبر کو 44 ڈرائیورس کو سزاء سنائی گئی انہیں چار دن کی جیل کی سزاء سنائی گئی۔ 633 موٹر سائیکل سواوں کو 100 ملی لیٹر خون میں 200 ملی گرام الکحل کی مقدار پائی گئی۔ 100 ملی لیٹر خون میں 30 ملی گرام کی حد ہونی چاہئے۔ پچھلے تین ماہ میں ٹووہیلرس ڈرائیورس شراب نوشی کرکے گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے گئے جس میں 11,904 افراد کے خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد 85 فیصد تھی جنہیں گوشہ محل اور بیگم پیٹ کے ٹریفک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں ان کے افراد خاندان کے سامنے کونسلنگ کی گئی۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے نشہ کی حالت میں گاڑی چلانے پر خطرات اور نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ نشہ کی حالت میں آنکھیں کمزور پڑجاتی ہے جس کی وجہ سے سڑک حادثات پیش آتے ہیں۔ موٹروہیکل ایکٹ کے دفعہ 185 کے تحت شراب نوشی کرکے گاڑی چلانے پر جرمانہ اور سزاء بھی ہوسکتی ہے۔ جرمانہ کے طور پر 10 ہزار روپئے یا چھ ماہ تک کی سزاء ہوسکتی ہے اور بار بار خلاف ورزی کرنے پر تین ماہ یا پھر مستقل طور پر ڈرائیونگ لائسنس کو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے شرابیوں پر زور دیا کہ وہ شراب نوشی کے بعد آٹو، کیاب، ٹووہیلرس گاڑیوں کو بک کرکے سفر کرسکتے ہیں۔ شراب پی کر گاڑی چلانے پر حادثہ میں خود کی اور سڑک پر چلنے والے راہگیروں اور دوسری گاڑیوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔ ش