حرمت ِ رسولؐ پر جان قربان، گستاخ راجہ سنگھ کو پھانسی دو ، بی جے پی مردہ باد

,

   

بی جے پی رکن اسمبلی کی گستاخی کیخلاف حیدرآباد کی گلی گلی نعروں سے گونج اٹھی۔ تلنگانہ کے اضلاع کیساتھ بیرون ملک بھی احتجاج

حیدرآباد۔24۔اگسٹ(سیاست نیوز) حرمت رسول ؐ پر جان بھی قربان ہے‘ گستاخ رسولؐ کو پھانسی دو‘ نعرہؐ تکبیر ‘ اللہ اکبر ‘ بی جے پی مردہ باد‘ راجہ سنگھ کو پھانسی دو ‘کے نعروں سے تلنگانہ کے تمام اضلاع گونج اٹھے اور شہر حیدرآباد کی گلی گلی سے ان نعروں کی آواز بلند ہونے لگی ہے ۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف علاقوں میں بند کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع میں آج چہارشنبہ کو بھی معطل بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بازار بند رکھے گئے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ محکمہ پولیس کی جانب سے تجارتی اداروں کو جلد بند کروانے کے اعلانات کے ساتھ ہی شہر کے عوام میں بے چینی پیدا ہوگئی اور کئی بازاروں کو شام 7 بجے ہی بند کروادیا گیا۔ پرانے شہر کے علاقوں بالخصوص چارمینار کے اطراف پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کرتے ہوئے تاریک علاقہ میں تبدیل کردیا گیا۔ شہر حیدرآباد میں جاری احتجاج اور گستاخی پر مذمتی بیانات کو عالمی ذرائع ابلاغ میں جگہ حاصل ہونے لگی ہے اور کویت‘ ترکیہ‘ برطانیہ کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے اداروں بشمول الجزیرہ میں گستاخانہ بیان اور اس پر ظاہر کئے جانے والے شدید ردعمل کے متعلق خبریں شائع ہونے لگی ہیں۔ تلنگانہ کے اضلاع بھینسہ ‘ عادل آباد‘ نرمل‘ نظام آباد‘ سنگاریڈی ‘وقارآباد‘ کورٹلہ کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں آج بھی مختلف بازار بند رہے اور مسلمانوں نے تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لئے ریالیاں منظم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر راجہ سنگھ کو پی ڈی ایکٹ کے تحت گرفتار کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ اس گستاخ کے خلاف 42 مقدمات درج ہیں۔ تلنگانہ کے مختلف اضلاع و شہر حیدرآباد میں احتجاج میں شامل ہونے والوں کی جانب سے نمائندگی یا شکایت وصول کرنے سے صریح طور پر انکار کیا جارہاہے اور کہا جا رہاہے کہ جتنی شکایات کرنی تھی کردی گئی ہیں لیکن شکایات کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ اسی لئے اب سڑک پر ہی مطالبہ کیا جائے گا بلکہ راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ نئے شہر میں ٹینک بنڈ پر واقع امبیڈکر کے مجسمہ کے قریب مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اور خواتین کی جانب سے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس احتجاج میں خالدہ پروین ‘ آصف حسین سہیل‘کنیز فاطمہ کے علاوہ دیگر نے سیاہ کپڑے کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ محکمہ پولیس نے شہر کے اکثریتی آبادی والے علاقوں کی گزرگاہوں پر رات کے اوقات میں تحدیدات عائد کرتے ہوئے راستوں کو موڑدینے کے اقدامات کئے جس کے نتیجہ میں کئی لوگوں کو اپنے مقامات تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گستاخ راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جاری احتجاج کو کمزور کرنے کی کوششوں کے طور پر کئے گئے اقدامات کے باوجود دونوںشہرو ںکے مختلف علاقو ںمیں یہ احتجاج پھیل گیا اور عنبرپیٹ‘ سعید آباد‘ شاہ علی بنڈہ ‘ تالاب کٹہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں احتجاجی لوگ جمع ہوگئے اور راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ رکن اسمبلی یاقوت پورہ سید احمد پاشاہ قادری نے دن میں اسپیکر اسمبلی کے دفتر پہنچ کر ایک مکتوب حوالہ کرتے ہوئے راجہ سنگھ کی اسمبلی کی کی رکنیت کو منسوخ کرنے کیلئے نمائندگی کی۔ گذشتہ شب شاہ علی بنڈہ چوراہے پر ہوئے احتجاج کے دوران پولیس لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والے نوجوانوں نے راجہ سنگھ کو سزا ہونے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اور پولیس کی جانب سے اگر راجہ سنگھ کو بچانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں مسلسل احتجاج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ شہر کے فرقہ وارانہ حساس علاقو ںمیں محکمہ پولیس نے پکٹس قائم کئے ہیں۔ راجہ سنگھ کے خلاف مختلف اضلاع اور گوشوں کی جانب سے کئے جانے والے احتجاج کے درمیان چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ نے شہر حیدرآباد اور ریاست میں صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس منعقد کیا اور پولیس کو امن و امان کی برقراری کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ۔ پولیس کی جانب سے احتجاج کو کمزور کرنے کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوتی دیکھ کرکئے گئے ان فیصلوں کے سلسلہ میں کہاجا رہاہے کہ احتجاج میں شامل نوجوان جو کسی بھی سیاسی یا مذہبی قیادت کے تابع نہیں اور محض عشق رسولﷺ میں وہ سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق گستاخ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج میں شامل نوجوانوں کا کہنا ہیکہ وہ اب حکمت‘ مصلحت اور حالات کے بہانوں کے بجائے عزم مصمم اور عمل پیہم کے ذریعہ اپنے مطالبات کو پورا کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اب نام نہاد دانشورانہ گفتگو اور دیوان خانوں میں ہونے والے اجلاس میں کئے جانے والے فیصلوں کا انتظار نہیں کرسکتے کیونکہ شان رسالتؐ میں کی گئی گستاخی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اب تک مسلم نوجوانوں کی نبض کو ٹٹولنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور مسلم نوجوان اپنے قائدین و عمائدین کے فیصلہ کا انتظار کیا کرتے تھے اور اب یہ ناقابل برداشت صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ اسی لئے اب کسی بھی طرح کی گستاخی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
……متعلقہ خبریں صفحہ آخر پر